پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ — پورٹل، ٹیسٹ، میرٹ اور ہاسٹل

تعلیمی دستاویزات و داخلے
یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر کتابوں کے ساتھ بیٹھے طلبہ — پنجاب یونیورسٹی داخلہ

پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے PU کا انڈرگریجویٹ داخلہ ٹیسٹ رجسٹر کر کے دیں، پھر admissions.pu.edu.pk پر اکاؤنٹ بنا کر ذاتی اور تعلیمی معلومات بھریں، کاغذات اپ لوڈ کریں، پروگرام چنیں، چالان HBL، UBL یا 1Bill سے جمع کرائیں اور رسید کی تصویر اپ لوڈ کر کے درخواست مکمل کریں۔

یونیورسٹی آف دی پنجاب (PU) لاہور ملک کی سب سے پرانی اور بڑی سرکاری یونیورسٹیوں میں سے ہے، اس لیے ہر سال ہزاروں طلبہ ایک ہی وقت میں فارم بھرتے ہیں اور چھوٹی سی غلطی سیٹ ضائع کر دیتی ہے۔ نیچے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ ٹیسٹ سے لے کر ہاسٹل تک اسی ترتیب سے دیا گیا ہے جس میں آپ کو اس سے گزرنا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ — کیمپس کے داخلی دروازے پر کھڑے طلبہ

2026 کی صورتحال: ایک تعلیمی ویب سائٹ کے مطابق سیشن 2026-27 کے بی ایس داخلوں کا پورٹل 2 جولائی سے 4 اگست 2026 تک کھلا تھا، یعنی یہ مرحلہ گزر چکا ہے۔ اگلے سیشن کی تاریخیں اور ٹیسٹ شیڈول صرف پنجاب یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری ہونے والے اشتہار سے کنفرم کریں۔

پہلے کیمپس اور پروگرام کا فیصلہ کریں

PU صرف لاہور کا نیو کیمپس اور اولڈ کیمپس نہیں۔ داخلے لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ کیمپس، جہلم کیمپس اور پوٹھوہار کیمپس میں بھی ہوتے ہیں، اور ہر کیمپس میں چند منتخب پروگرام (بزنس، کامرس، کمپیوٹر سائنس، قانون وغیرہ) چلتے ہیں۔ ایک ہی مضمون مختلف کیمپس میں الگ میرٹ پر بند ہوتا ہے، اس لیے صرف لاہور پر انحصار نہ کریں۔

اسی طرح ایک پروگرام کی تین شکلیں ہو سکتی ہیں:

پروگرام کی قسمفیسہاسٹل
ریگولر / مارننگسب سے کم، سرکاری شرحمیرٹ اور دستیابی پر مل سکتا ہے
سیلف سپورٹنگریگولر سے کافی زیادہعام طور پر نہیں ملتا
آفٹرنون / ریپلیکازیادہعام طور پر نہیں ملتا

آفیشل "Offered Programs" لسٹ میں ہر پروگرام کی اہلیت (کم از کم نمبر اور انٹر کا گروپ) دیکھ کر صرف وہ پروگرام چنیں جن کے آپ اہل ہیں۔ کس یونیورسٹی کو ترجیح دیں، یہ فیصلہ کرنے کے لیے ہماری گائیڈ یونیورسٹی میں اپلائی کرنے کا طریقہ بھی دیکھ لیں۔

یونیورسٹی کی عمارت کے قریب سیڑھیوں پر کتابیں لیے بیٹھے نوجوان طلبہ

PU داخلہ ٹیسٹ: سات کیٹیگریاں اور ان کی شرائط

بی ایس پروگراموں کے لیے پنجاب یونیورسٹی کا اپنا داخلہ ٹیسٹ لازمی ہے۔ وہ طلبہ بھی ٹیسٹ دے سکتے ہیں جن کا انٹر کا نتیجہ ابھی نہیں آیا۔ ٹیسٹ آپ کے انٹر کے گروپ کے مطابق الگ الگ کیٹیگری میں ہوتا ہے:

  • PU-E: پری انجینئرنگ
  • PU-M: پری میڈیکل
  • PU-AHS: آرٹس، ہیومینیٹیز اور سوشل سائنسز
  • PU-CSP: آئی سی ایس (فزکس کے ساتھ)
  • PU-CSS: آئی سی ایس (اسٹیٹسٹکس کے ساتھ)
  • PU-GS: جنرل سائنس
  • PU-COM: کامرس

چند ضروری شرائط:

  1. پچھلے سال کا ٹیسٹ نتیجہ نئے سیشن میں نہیں چلتا، ہر سال نیا ٹیسٹ دینا ہوتا ہے۔
  2. 2025 میں ٹیسٹ فیس 2,500 روپے (ناقابلِ واپسی) تھی جو HBL، UBL یا 1Bill سے جمع ہوئی اور رسید رجسٹریشن کے وقت اپ لوڈ کرنا لازمی تھی۔ نئے سیشن کی فیس اشتہار سے کنفرم کریں۔
  3. انجینئرنگ کے لیے PU ٹیسٹ کی جگہ UET کا ECAT یا SAT کا اسکور بھی قبول ہوتا ہے۔
  4. LLB کے لیے PU ٹیسٹ کے ساتھ HEC کا LAT بھی پاس ہونا چاہیے، تفصیل ایل ایل بی میں داخلہ لینے کا طریقہ میں ہے۔
  5. آرٹ اینڈ ڈیزائن کے امیدواروں کو ٹیسٹ کے بعد پریکٹیکل ٹیسٹ بھی دینا پڑتا ہے۔

یونیورسٹی بعض سالوں میں ٹیسٹ دو بار بھی لیتی ہے (2025 میں دوسرا ٹیسٹ ہوا تھا)، اس لیے پہلا ٹیسٹ اچھا نہ جائے تو دوسرے کا اعلان دیکھتے رہیں۔

کلاس روم میں توجہ سے داخلہ ٹیسٹ کا پرچہ حل کرتے طلبہ

پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ: آن لائن پورٹل کے پانچ مراحل

ٹیسٹ کے بعد اصل درخواست admissions.pu.edu.pk پر جمع ہوتی ہے۔ پورٹل پرانے براؤزر پر نہیں کھلتا، اس لیے موبائل یا کمپیوٹر پر Chrome یا Firefox کا تازہ ورژن استعمال کریں۔

  1. اکاؤنٹ بنائیں: اپنے شناختی کارڈ یا ب فارم نمبر اور فعال ای میل سے سائن اپ کریں۔
  2. چار ٹیب بھریں: Personal Information، Educational Information، Experience/Publications (بی ایس والوں کے لیے عموماً خالی) اور آخر میں Apply۔ تعلیمی ٹیب میں میٹرک اور انٹر کے نمبر سند کے مطابق درج کریں اور کاغذات اپ لوڈ کریں۔
  3. فائنل سبمیشن: یہ بٹن دبانے کے بعد معلومات تبدیل نہیں ہو سکتیں، اس لیے پہلے ہر خانہ دوبارہ پڑھیں۔
  4. پروگرام چنیں اور چالان نکالیں: Offered Programs سے پروگرام منتخب کریں، Print Challan سے چالان پرنٹ کریں اور HBL یا UBL کی کسی برانچ یا 1Bill سے فیس جمع کرائیں۔
  5. درخواست مکمل کریں: Generate Application پر کلک کر کے جمع شدہ چالان کی تصویر اپ لوڈ کریں۔ پورٹل کے مطابق رسید اپ لوڈ کیے بغیر درخواست زیرِ غور ہی نہیں آتی۔

یاد رکھیں کہ کوٹہ بدلنے کے لیے اسی پروگرام میں دوبارہ اپلائی کرنے کی اجازت نہیں، اس لیے اوپن میرٹ، ڈس ایبلٹی یا کسی اور کوٹے کا انتخاب پہلی بار ہی سوچ سمجھ کر کریں۔

حجاب پہنے طالبہ لیپ ٹاپ پر یونیورسٹی کا آن لائن داخلہ فارم بھر رہی ہے

اپ لوڈ کی فائلیں اور ساتھ رکھنے والے کاغذات

پورٹل پر فائل کا سائز حد سے زیادہ ہو تو اپ لوڈ رک جاتا ہے۔ آفیشل ہدایات کے مطابق:

فائلشرط
تازہ پاسپورٹ سائز تصویرنیلا بیک گراؤنڈ، JPG یا PNG، زیادہ سے زیادہ 200KB
شناختی کارڈ / ب فارم (سامنے کا رخ)زیادہ سے زیادہ 300KB
معذوری سرٹیفکیٹ (اگر کوٹہ لیں)زیادہ سے زیادہ 300KB
میٹرک اور انٹر کی اسناد یا ڈی ایم سیتعلیمی ٹیب میں اپ لوڈ
جمع شدہ چالان کی رسیدGenerate Application کے وقت

اس کے علاوہ یہ کاغذات تیار رکھیں کیونکہ میرٹ لسٹ میں نام آنے پر شعبہ اصل دستاویزات دیکھتا ہے:

  • PU داخلہ ٹیسٹ کا نتیجہ کارڈ (یا ECAT/SAT/LAT کا رزلٹ)، کیونکہ پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ ٹیسٹ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا
  • O/A لیول والوں کے لیے آئی بی سی سی ایکویویلنس سرٹیفکیٹ
  • پنجاب کے ڈومیسائل والی مخصوص سیٹوں کے لیے ڈومیسائل
  • تعلیمی وقفہ (سیشن گیپ) ہو تو اس کی وضاحت، جو داخلہ ضوابط کے مطابق شعبے کے سربراہ کے ذریعے رجسٹرار کو بھیجی جاتی ہے
لیپ ٹاپ پر اسناد اسکین کر کے اپ لوڈ کرنے کی تیاری کرتی طالبہ

PU کی میرٹ لسٹ کیسے بنتی ہے؟

تازہ اعلان کے مطابق غیر انجینئرنگ بی ایس پروگراموں میں داخلہ ٹیسٹ کا وزن 25 فیصد اور انجینئرنگ میں 33 فیصد ہے۔ باقی حصہ میٹرک اور انٹر کے نمبروں سے یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی کے مطابق بنتا ہے۔ پورٹل پر میرٹ کیلکولیٹر بھی موجود ہوتا ہے، اپنا حساب خود لگانے کے لیے ایگریگیٹ نکالنے کا طریقہ پڑھیں۔

میرٹ لسٹ ہر شعبہ الگ لگاتا ہے اور pu.edu.pk پر بھی شائع ہوتی ہے۔ پچھلے سال کی میرٹ لسٹ پورٹل پر رہتی ہے، اسے دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ آپ کا ایگریگیٹ کس شعبے میں چل سکتا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ ہر سال کٹ آف بدلتا ہے۔ نام آنے کے بعد فیس جمع کرانے کی مدت بہت کم ہوتی ہے؛ اس میں دیر کی تو سیٹ اگلی لسٹ والے کو چلی جاتی ہے۔

لائبریری میں لیپ ٹاپ پر میرٹ لسٹ دیکھتا ہوا مسکراتا طالب علم

سمسٹر فیس اور چالان: کہاں سے دیکھیں؟

PU کی سمسٹر فیس پروگرام اور اس کی قسم (ریگولر یا سیلف سپورٹنگ) کے حساب سے بہت مختلف ہوتی ہے، اس لیے یہاں کوئی ایک رقم لکھنا گمراہ کن ہوگا۔ تازہ رقم یونیورسٹی کے فیس اسٹرکچر کے آفیشل صفحے سے یا داخلے کے چالان پر دیکھیں۔ عمومی اصول یہ ہیں:

  • ریگولر پروگرام کی فیس سیلف سپورٹنگ سے کافی کم ہوتی ہے، اسی لیے اس کا میرٹ زیادہ جاتا ہے۔
  • فیس صرف یونیورسٹی کے جاری کردہ چالان سے بینک یا 1Bill پر جمع کرائیں، کسی ایجنٹ یا ذاتی اکاؤنٹ میں نہیں۔
  • غلط یا نامکمل معلومات یا اہلیت نہ ہونے پر داخلہ بغیر نوٹس منسوخ ہو سکتا ہے اور جمع شدہ فیس ضبط ہو سکتی ہے۔
یونیورسٹی کیمپس میں دھوپ میں چلتے ہوئے طلبہ

ہاسٹل کی سیٹ صرف ریگولر طلبہ کے لیے

داخلہ پورٹل کے مطابق PU کے ہاسٹل صرف ریگولر یا مارننگ پروگرام کے طلبہ کو ملتے ہیں، وہ بھی میرٹ پر اور کمروں کی دستیابی کے مطابق۔ سیٹیں محدود ہیں، اس لیے ہر نئے طالب علم کو ہاسٹل نہیں ملتا۔ سیلف سپورٹنگ، آفٹرنون اور ریپلیکا پروگرام والے عموماً اس کے اہل نہیں ہوتے۔

لاہور سے باہر کے طلبہ کے لیے مشورہ:

  • داخلہ ملتے ہی شعبے یا ہاسٹل دفتر سے ہاسٹل الاٹمنٹ کا شیڈول پوچھیں۔
  • ہاسٹل نہ ملنے کی صورت میں کیمپس کے قریب پرائیویٹ ہاسٹل کو پہلے دیکھ کر اور معاہدہ پڑھ کر ہی ایڈوانس دیں۔
بنک بیڈز والا صاف ستھرا ہاسٹل کا کمرہ

مدد کہاں سے ملے گی؟

PU کے داخلہ پورٹل پر دیے گئے رابطے (پیر سے جمعہ، صبح 8 سے شام 4 بجے):

  • UAN: 042-111-001-882 (داخلہ ایکسٹینشنز پورٹل پر درج ہیں)
  • آن لائن فارم کے تکنیکی مسائل: admquery@pu.edu.pk
  • ایکویویلنس سرٹیفکیٹ: پورٹل پر الگ نمبر اور فارم موجود ہے

پورٹل پر فارم بھرنے کی ویڈیو ٹیوٹوریل بھی دستیاب ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے الگ کمیٹی (DPCC) دیکھتی ہے اور ان کا اشتہار بھی الگ آتا ہے۔

کتابوں اور لیپ ٹاپ کے ساتھ مل کر داخلے کی تیاری کرتی طالبات

ٹیسٹ کی بروقت رجسٹریشن اور چالان کی رسید ہی PU کی سیٹ پکی کرتی ہیں

پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ مشکل نہیں، لیکن یہاں سیٹیں عموماً دو جگہ ضائع ہوتی ہیں: داخلہ ٹیسٹ کی رجسٹریشن کی تاریخ نکل جانا، اور چالان جمع کرا کے رسید اپ لوڈ نہ کرنا۔ اگلے سیشن کا اشتہار آتے ہی ٹیسٹ کے لیے رجسٹر ہوں، تین چار کیمپس اور پروگرام شارٹ لسٹ کریں، فائنل سبمیشن سے پہلے ہر خانہ دوبارہ پڑھیں اور میرٹ لسٹ میں نام آتے ہی اسی دن فیس جمع کرائیں۔ تاریخیں، فیس اور اہلیت ہر سال بدلتی ہیں، اس لیے آخری فیصلہ ہمیشہ pu.edu.pk کے تازہ اشتہار کو دیکھ کر کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا پنجاب یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ٹیسٹ لازمی ہے؟

جی ہاں، بی ایس (انڈرگریجویٹ) پروگراموں کے لیے PU کا اپنا داخلہ ٹیسٹ لازمی ہے۔ انجینئرنگ کے امیدوار PU ٹیسٹ کی جگہ UET کا ECAT یا SAT کا اسکور بھی دے سکتے ہیں، اور LLB کے لیے PU ٹیسٹ کے ساتھ HEC کا LAT بھی چاہیے۔ پچھلے سال کا ٹیسٹ نتیجہ نئے سیشن میں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔

پنجاب یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کی فیس کتنی ہے؟

2025 کے اعلان میں PU داخلہ ٹیسٹ کی فیس 2,500 روپے (ناقابلِ واپسی) تھی جو HBL، UBL یا 1Bill کے ذریعے جمع ہوتی تھی۔ ہر سال فیس بدل سکتی ہے، اس لیے نئے سیشن کی فیس pu.edu.pk کے تازہ اشتہار سے دیکھیں۔

کیا انٹر کے رزلٹ سے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں اپلائی ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، جن طلبہ کا انٹرمیڈیٹ یا مساوی امتحان کا نتیجہ ابھی نہیں آیا وہ بھی داخلہ ٹیسٹ دے سکتے ہیں اور آن لائن فارم بھر سکتے ہیں۔ رزلٹ آنے پر نمبر پورٹل پر درج کرنا اور مقررہ تاریخ تک اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں میرٹ کیسے بنتا ہے؟

تازہ اعلان کے مطابق غیر انجینئرنگ بی ایس پروگراموں میں داخلہ ٹیسٹ کا وزن 25 فیصد اور انجینئرنگ میں 33 فیصد ہے، باقی حصہ میٹرک اور انٹر کے نمبروں سے داخلہ پالیسی کے مطابق بنتا ہے۔ ہر شعبہ اپنی الگ میرٹ لسٹ لگاتا ہے۔

کیا سیلف سپورٹنگ پروگرام والے طلبہ کو ہاسٹل ملتا ہے؟

عام طور پر نہیں۔ PU کے داخلہ پورٹل کے مطابق ہاسٹل صرف ریگولر یا مارننگ پروگرام کے طلبہ کو میرٹ اور کمروں کی دستیابی پر ملتا ہے۔ سیلف سپورٹنگ، آفٹرنون اور ریپلیکا پروگرام والوں کو ہاسٹل کی ضمانت نہیں۔

فیس جمع کرانے کے بعد فارم میں غلطی درست ہو سکتی ہے؟

فائنل سبمیشن کے بعد پورٹل پر معلومات میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے سبمٹ کرنے سے پہلے نام، شناختی کارڈ نمبر اور نمبر اچھی طرح چیک کریں۔ کسی تکنیکی مسئلے کے لیے admquery@pu.edu.pk پر ای میل کریں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں