زمین کی پیمائش کا طریقہ — مرلہ، کنال، ایکڑ فارمولا اور جدول

زمین و جائیداد کے کاغذات
زمین کی پیمائش کرنے کا طریقہ — فیتے سے رقبہ ناپتے ہوئے ہاتھ

زمین کی پیمائش کا طریقہ یہ ہے کہ فیتے سے لمبائی اور چوڑائی فٹ میں ناپیں، دونوں کو ضرب دے کر مربع فٹ نکالیں اور اسے 272.25 (سرکاری) یا 225 (سوسائٹی معیار) سے تقسیم کر کے مرلے بنائیں۔ 20 مرلے = 1 کنال اور 8 کنال = 1 ایکڑ۔ بے قاعدہ زمین کو حصوں میں بانٹ کر ناپیں۔

زمین یا پلاٹ خریدتے، بیچتے یا وراثت تقسیم کرتے وقت سب سے اہم مرحلہ درست پیمائش ہے۔ پیمائش میں معمولی غلطی، یا یہ نہ جاننا کہ سامنے والا کون سا مرلہ استعمال کر رہا ہے، لاکھوں روپے کا نقصان کرا سکتی ہے۔ اس گائیڈ میں فارمولا، سرسائی سے مربعہ تک تمام اکائیاں، شہروں کا فرق اور فیتے، موبائل اور سرویئر سے پیمائش کا عملی طریقہ ایک جگہ بیان کیا گیا ہے۔

زمین کی پیمائش کا طریقہ — رقبہ اور سروے

زمین کی پیمائش کا فارمولا — مختصر جواب

مستطیل یا مربع زمین کا بنیادی فارمولا:

لمبائی (فٹ) × چوڑائی (فٹ) = رقبہ (مربع فٹ)

اس کے بعد اکائی بدلیں:

  • مرلے = مربع فٹ ÷ 272.25 (پٹوار ریکارڈ) یا ÷ 225 (سوسائٹی معیار)
  • کنال = مرلے ÷ 20
  • ایکڑ = کنال ÷ 8

مثال: پلاٹ 50 فٹ لمبا اور 30 فٹ چوڑا ہے:

  • 50 × 30 = 1,500 مربع فٹ
  • سرکاری معیار: 1,500 ÷ 272.25 = 5.51 مرلے (تقریباً 5 مرلے 4.6 سرسائی)
  • سوسائٹی معیار: 1,500 ÷ 225 = 6.67 مرلے

ایک ہی زمین دونوں حساب سے ایک مرلے سے زیادہ کا فرق دکھا رہی ہے — اسی لیے سودے سے پہلے معیار طے کرنا ضروری ہے۔

ایک مرلہ، کنال اور ایکڑ کی پیمائش — مکمل جدول

پاکستان میں لمبائی کی بنیادی روایتی اکائی کرم ہے جو 5.5 فٹ کے برابر ہے۔ باقی تمام اکائیاں اسی سے بنتی ہیں:

  • سرسائی (سرسہی): 1 کرم × 1 کرم = 30.25 مربع فٹ۔ یہ پرانے فرد اور جمع بندی میں نظر آتی ہے۔
  • مرلہ: 9 سرسائی = 272.25 مربع فٹ۔ شہری پلاٹوں کی سب سے عام اکائی۔
  • کنال: 20 مرلے۔ رہائشی اور زرعی دونوں زمینوں میں استعمال ہوتا ہے۔ کنال کی تاریخی تعریف برطانوی دور میں معیاری بنی۔
  • ایکڑ / کیلہ: 8 کنال۔ دیہات میں اسے کیلہ (کِلہ) کہتے ہیں، سرکاری کاغذات میں ایکڑ — دونوں ایک ہی ہیں۔
  • مربعہ: 25 ایکڑ۔ پنجاب کی نہری کالونیوں میں زرعی زمین مربعوں میں الاٹ ہوئی تھی، اسی لیے پرانے نقشوں میں "چک نمبر" کے ساتھ مربعے کا ذکر ملتا ہے۔
اکائیبرابرمربع فٹمربع گزمربع میٹر
1 سرسائی1 مربع کرم30.253.362.81
1 مرلہ9 سرسائی272.2530.2525.29
1 کنال20 مرلے5,445605505.86
1 ایکڑ / کیلہ8 کنال43,5604,8404,047
1 مربعہ25 ایکڑ10,89,0001,21,0001,01,171
زمین کی پیمائش کے لیے جدید سروے آلات

عام پلاٹ سائز — دونوں معیار پر:

پلاٹسرکاری (272.25) مربع فٹسوسائٹی (225) مربع فٹعام سائز (225 معیار)
3 مرلے81767525 × 27 فٹ
5 مرلے1,3611,12525 × 45 فٹ
7 مرلے1,9061,57535 × 45 فٹ
10 مرلے2,7232,25035 × 65 فٹ (تقریباً)
1 کنال5,4454,50050 × 90 فٹ
2 کنال10,8909,00075 × 120 فٹ

علاقائی فرق — 272.25 بمقابلہ 225 مربع فٹ کا مرلہ

مرلہ اور کنال کے نام پورے ملک میں ایک ہیں، لیکن رقبہ ہر جگہ ایک نہیں:

  • محکمہ مال / پٹوار ریکارڈ (272.25 مربع فٹ): فرد، جمع بندی، انتقال اور دیہی زرعی زمین میں یہی معیار چلتا ہے۔ 1 کنال = 5,445 مربع فٹ۔
  • ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ترقیاتی ادارے (225 مربع فٹ): لاہور (LDA، DHA)، اسلام آباد کے CDA سیکٹرز اور بیشتر نجی سوسائٹیز میں 1 مرلہ = 225 مربع فٹ اور 1 کنال = 4,500 مربع فٹ مانا جاتا ہے۔
  • بعض شہری علاقے (250 یا 272 مربع فٹ): کچھ پرانی آبادیوں اور مقامی منڈیوں میں 250 یا 272 مربع فٹ کا مرلہ بھی بولا جاتا ہے۔
  • سندھ اور کراچی: پلاٹ زیادہ تر مربع گز میں بکتے ہیں (مثلاً 120 گز، 240 گز)، جبکہ زرعی زمین ایکڑ میں۔

نوٹ: 272.25 اور 225 کا فرق تقریباً 17 فیصد بنتا ہے۔ بیعانہ یا معاہدہ لکھتے وقت رقبہ مربع فٹ میں بھی درج کروائیں۔ رقبہ سرکاری کاغذات سے ملانے کے لیے زمین و جائیداد کے کاغذات کی مکمل گائیڈ دیکھیں۔

فیتے سے زمین کی پیمائش کا طریقہ

  1. لمبائی ناپیں: پلاٹ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک فیتہ کھینچ کر سیدھ میں رکھیں اور فٹ نوٹ کریں۔
  2. چوڑائی ناپیں: دوسری سمت بھی اسی طرح ناپیں۔ آمنے سامنے کی دونوں اطراف ناپیں — اگر برابر نہ ہوں تو پلاٹ ترچھا ہے۔
  3. رقبہ نکالیں: لمبائی × چوڑائی۔
  4. اکائی بدلیں: مربع فٹ کو 272.25 یا 225 سے تقسیم کریں۔

مثال (مستطیل پلاٹ): 60 × 40 = 2,400 مربع فٹ → 2,400 ÷ 272.25 = 8.82 مرلے (سرکاری) یا 2,400 ÷ 225 = 10.67 مرلے (سوسائٹی)۔

زمین کی پیمائش کرتا سرویئر — فیتے سے پیمائش

مشورہ: کم از کم 100 فٹ کا اسٹیل فیتہ استعمال کریں۔ کپڑے کا فیتہ کھنچ کر غلط پیمائش دیتا ہے۔ ہر کونے پر 90 ڈگری کا زاویہ چیک کرنے کے لیے 3-4-5 کا اصول اپنائیں: ایک طرف 3 فٹ، دوسری طرف 4 فٹ نشان لگائیں — دونوں نشانوں کا درمیانی فاصلہ 5 فٹ ہو تو کونا سیدھا ہے۔

موبائل ایپ، گوگل ارتھ اور GPS سے پیمائش

موبائل سے چند منٹ میں تخمینی رقبہ معلوم ہو جاتا ہے:

GPS Fields Area Measure (Android):

  1. ایپ کھول کر زمین کے ایک کونے پر کھڑے ہوں
  2. حدود کے ساتھ چلتے ہوئے ہر کونے پر پوائنٹ لگائیں
  3. آخری پوائنٹ پر "Stop" کریں — رقبہ ایکڑ، کنال یا مربع فٹ میں دکھا دیا جاتا ہے

Google Earth / Google Maps:

  1. سیٹلائٹ ویو میں اپنی زمین تلاش کریں
  2. Google Maps میں دائیں کلک کر کے "Measure distance" یا Google Earth میں Polygon ٹول منتخب کریں
  3. زمین کے تمام کونوں پر پوائنٹس لگا کر شکل بند کریں — رقبہ خود ظاہر ہو جاتا ہے

یہ طریقہ بے قاعدہ کھیتوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔

موبائل سے زمین کی پیمائش — GPS ایپ کا استعمال

GPS پیمائش میں 3 سے 5 فیصد تک فرق ممکن ہے۔ قانونی خرید و فروخت میں ہمیشہ فیتے یا سرویئر کی پیمائش کو حتمی مانیں۔

بے قاعدہ پلاٹ کا رقبہ

ہر پلاٹ کامل مستطیل نہیں ہوتا۔ ٹیڑھی یا L شکل کی زمین کا رقبہ یوں نکالیں:

  1. زمین کو مستطیل اور مثلث حصوں میں تقسیم کریں
  2. مستطیل: لمبائی × چوڑائی
  3. مثلث: (قاعدہ × اونچائی) ÷ 2
  4. تمام حصوں کا رقبہ جمع کریں

مثال — L شکل کا پلاٹ:

  • حصہ A: 40 × 30 = 1,200 مربع فٹ
  • حصہ B: 20 × 30 = 600 مربع فٹ
  • کل: 1,800 مربع فٹ = 6.61 مرلے (272.25 معیار)

دائرے، ذوزنقہ اور دیگر شکلوں کے فارمولوں کے لیے رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ اور مثلث کی تفصیل کے لیے مثلث کی پیمائش کا طریقہ دیکھیں۔

زمین کی میدانی پیمائش میں فیتہ استعمال کرتے ہوئے

پٹواری اور سرویئر سے سرکاری پیمائش

تنازع، تقسیمِ وراثت یا حد بندی (نشاندہی) کے لیے خود کی گئی پیمائش کافی نہیں ہوتی:

  • پٹواری کی پیمائش: پٹواری روایتی زنجیر (جریب) اور کرم کے حساب سے ناپتا ہے اور نتیجہ خسرہ نمبر کے ساتھ ریکارڈ سے ملاتا ہے۔ نشاندہی کے لیے تحصیل دار کو درخواست دی جاتی ہے۔
  • لائسنس یافتہ سرویئر: بڑی زمین یا عدالتی معاملے میں ٹوٹل اسٹیشن یا DGPS سے سروے کروائیں — یہ انچوں تک درست نتیجہ دیتا ہے۔
  • ریکارڈ سے ملان: اپنی پیمائش کو آن لائن لینڈ ریکارڈ اور فرد ملکیت میں درج رقبے سے ضرور ملائیں۔

عام غلطیاں

  1. مرلے کا معیار طے نہ کرنا: 272.25 اور 225 کا فرق پوچھے بغیر سودا کرنا سب سے مہنگی غلطی ہے۔
  2. فیتہ ڈھیلا یا ٹیڑھا رکھنا: فیتہ کھنچا ہوا اور زمین کے بالکل سیدھ میں ہونا چاہیے۔
  3. صرف ایک طرف ناپنا: آمنے سامنے کی دونوں اطراف ناپیں؛ ترچھے پلاٹ کا رقبہ کم نکلتا ہے۔
  4. GPS پر مکمل انحصار: ایپ صرف تخمینہ دیتی ہے۔
  5. پیمائش تحریر نہ کرنا: اپنی پیمائش لکھ کر بیچنے والے اور کاغذات سے موازنہ کریں۔

پلاٹ خرید رہے ہیں تو پیمائش کے ساتھ ملکیت کی جانچ بھی ضروری ہے — اس کے لیے پلاٹ خریدتے وقت تصدیق کا طریقہ پڑھیں۔ شہری پلاٹ کے سائز اور ناپ کی مزید مثالیں پلاٹ کی پیمائش کا طریقہ میں موجود ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

زمین کی پیمائش کا فارمولا کیا ہے؟

مستطیل زمین کا فارمولا ہے: لمبائی (فٹ) × چوڑائی (فٹ) = مربع فٹ۔ مربع فٹ کو 272.25 سے تقسیم کریں تو مرلے، مرلوں کو 20 سے تقسیم کریں تو کنال اور کنال کو 8 سے تقسیم کریں تو ایکڑ نکل آتے ہیں۔ جہاں 225 مربع فٹ کا مرلہ چلتا ہو وہاں 272.25 کی جگہ 225 سے تقسیم کریں۔

ایک مرلہ کتنے مربع فٹ کا ہوتا ہے؟

محکمہ مال (پٹوار) کے ریکارڈ میں 1 مرلہ = 272.25 مربع فٹ ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور بیشتر ہاؤسنگ سوسائٹیز (DHA، LDA، CDA سیکٹرز) میں عملی طور پر 1 مرلہ = 225 مربع فٹ مانا جاتا ہے۔ سودا کرتے وقت معاہدے میں معیار ضرور لکھوائیں۔

ایک کنال میں کتنے مرلے ہوتے ہیں؟

ایک کنال میں ہمیشہ 20 مرلے ہوتے ہیں۔ سرکاری معیار پر 1 کنال = 5,445 مربع فٹ جبکہ 225 مربع فٹ والے مرلے کے حساب سے 1 کنال = 4,500 مربع فٹ بنتا ہے۔

ایک ایکڑ کتنا ہوتا ہے؟

1 ایکڑ = 8 کنال = 160 مرلے = 43,560 مربع فٹ = 4,840 مربع گز۔ پنجاب کے دیہات میں ایکڑ کو کیلہ (کِلہ) بھی کہتے ہیں — دونوں ایک ہی پیمائش ہیں۔

سرسائی کیا ہوتی ہے؟

سرسائی (سرسہی) زمین کی سب سے چھوٹی روایتی اکائی ہے۔ 1 سرسائی = 1 کرم × 1 کرم = 5.5 × 5.5 = 30.25 مربع فٹ، اور 9 سرسائی مل کر 1 مرلہ (272.25 مربع فٹ) بنتی ہیں۔ یہ اکائی فرد اور جمع بندی میں نظر آتی ہے۔

موبائل سے زمین کی پیمائش کیسے کریں؟

GPS Fields Area Measure (Android) یا Map Measure (iOS) جیسی ایپ کھولیں، زمین کے ہر کونے پر کھڑے ہو کر پوائنٹ لگائیں یا سیٹلائٹ نقشے پر کونے نشان زد کریں — ایپ رقبہ خود نکال دیتی ہے۔ GPS میں 3 سے 5 فیصد فرق ممکن ہے اس لیے قانونی سودے میں فیتے یا سرویئر کی پیمائش کو حتمی مانیں۔

بے قاعدہ پلاٹ کا رقبہ کیسے نکالیں؟

بے قاعدہ پلاٹ کو مستطیل اور مثلث حصوں میں تقسیم کریں، مثلث کا رقبہ (قاعدہ × اونچائی) ÷ 2 سے اور مستطیل کا لمبائی × چوڑائی سے نکالیں، پھر سب حصے جمع کر دیں۔

مختلف شہروں میں مرلے کی پیمائش میں فرق کیوں ہے؟

محکمہ مال نے برطانوی دور کا 272.25 مربع فٹ والا مرلہ برقرار رکھا، جبکہ شہری ترقیاتی اداروں اور سوسائٹیز نے حساب آسان رکھنے کے لیے 225 مربع فٹ کا مرلہ اپنا لیا۔ سندھ میں زیادہ تر مربع گز اور ایکڑ استعمال ہوتے ہیں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں