علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ — میٹرک سے ایم فل تک

تعلیمی دستاویزات و داخلے
گھر میں لیپ ٹاپ پر پڑھتی طالبہ، اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی نظامِ تعلیم کی علامت

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے aiou.edu.pk پر پراسپیکٹس سے اپنے پروگرام کی اہلیت دیکھیں، پھر fmbp.aiou.edu.pk پر اکاؤنٹ بنا کر آن لائن فارم بھریں، تعلیمی اسناد اپ لوڈ کریں، فیس چالان ڈاؤن لوڈ کر کے آخری تاریخ سے پہلے جمع کرائیں۔ اس کے بعد کتابیں ڈاک سے آتی ہیں اور ٹیوٹر مقرر ہو جاتا ہے۔

AIOU پاکستان کی سب سے بڑی فاصلاتی یونیورسٹی ہے جہاں روزانہ کلاس میں جائے بغیر میٹرک سے پی ایچ ڈی تک پڑھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے نوکری کرنے والے، گھریلو خواتین، دیہات کے طلبہ اور دینی مدارس کے فارغ التحصیل اس کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں صرف فارم بھرنے کی بات نہیں، بلکہ داخلے کے بعد کا پورا نظام بھی سمجھایا گیا ہے، کیونکہ زیادہ تر طلبہ اسائنمنٹس اور ورکشاپس میں الجھ کر سمسٹر ضائع کرتے ہیں۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ سمجھنے کے لیے لیپ ٹاپ پر فارم دیکھتا نوجوان طالب علم

خزاں اور بہار: AIOU کے داخلے کس مہینے کھلتے ہیں؟

اوپن یونیورسٹی میں سال میں دو سمسٹر ہوتے ہیں:

سمسٹرداخلے عموماًکلاسیں / مطالعہ
خزاں (Autumn)جولائی سے اگستستمبر سے فروری
بہار (Spring)جنوری سے فروریمارچ سے اگست

مثال کے طور پر خزاں 2026 کے داخلوں میں نئے طلبہ کے لیے میٹرک، ایف اے، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس اور بی ایڈ کی آخری تاریخ اگست میں رکھی گئی تھی، جبکہ ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی تاریخ چند دن بعد تھی، اور بعد میں لیٹ فیس کے ساتھ توسیع بھی ہوئی۔ اب اکتوبر 2026 میں خزاں کا داخلہ بند ہو چکا ہے، اس لیے اگلا موقع عموماً بہار 2027 کا ہوگا۔ تاریخیں ہر بار بدلتی ہیں، لہٰذا AIOU کی آفیشل ویب سائٹ پر داخلہ اشتہار ضرور دیکھیں۔

کتاب اور لیپ ٹاپ کے ساتھ ہوم ورک کرتا طالب علم، اگلے سمسٹر کی تیاری

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ: آن لائن فارم کے 8 مراحل

نئے طلبہ کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ آن لائن ایڈمیشن سسٹم (OAS) پر مبنی ہے۔ موبائل پر بھی یہ فارم بھرا جا سکتا ہے، لیکن اسناد اپ لوڈ کرنے کے لیے صاف تصاویر پہلے سے تیار رکھیں۔

  1. پراسپیکٹس پڑھیں: aiou.edu.pk پر "Prospectus" اور "Eligibility & Fee" کی فائل کھولیں، اپنے پروگرام کا کوڈ، اہلیت اور فیس نوٹ کریں۔
  2. اکاؤنٹ بنائیں: AIOU آن لائن ایڈمیشن پورٹل پر شناختی کارڈ یا ب فارم نمبر، موبائل نمبر اور ای میل سے رجسٹر ہوں۔
  3. پروفائل مکمل کریں: نام، والد کا نام، تاریخ پیدائش بالکل سند کے مطابق لکھیں۔
  4. ڈاک کا پتہ درست دیں: کتابیں، رول نمبر سلپ اور خطوط اسی پتے پر آئیں گے، اس لیے گلی، تحصیل اور ضلع مکمل لکھیں۔
  5. پروگرام اور کورسز چنیں: کچھ پروگراموں میں اختیاری مضامین خود منتخب کرنے ہوتے ہیں۔
  6. اسناد اپ لوڈ کریں: پچھلی تعلیم کی سند/رزلٹ کارڈ، تصویر اور CNIC کی اسکین۔
  7. فیس چالان ڈاؤن لوڈ کریں: پروفائل جمع ہوتے ہی چالان بن جاتا ہے۔
  8. فیس جمع کرائیں اور رسید محفوظ رکھیں: ادائیگی کے چند دن بعد پورٹل پر داخلہ کی تصدیق آ جاتی ہے۔

یونیورسٹی نے اکاؤنٹ بنانے، اہلیت دیکھنے اور چالان ڈاؤن لوڈ کرنے کی ویڈیو ہدایات بھی ایڈمیشن صفحے پر رکھی ہیں۔ میٹرک، انٹر، ایسوسی ایٹ ڈگری اور بی ایڈ کے دستی فارم ریجنل دفاتر سے بھی ملتے ہیں۔

درخواست فارم پر قلم سے معلومات لکھتا ہاتھ، اوپن یونیورسٹی کا داخلہ فارم

کون سے پروگرام میں کون داخلہ لے سکتا ہے؟

اوپن یونیورسٹی کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر پروگراموں میں عمر کی بالائی حد نہیں۔ عمومی اہلیت یوں ہے، مگر حتمی شرط ہر سمسٹر کی "Eligibility" فائل میں دیکھیں:

پروگرامکم از کم پچھلی تعلیمضروری کاغذات
میٹرک (جنرل/سائنس/درسِ نظامی)مڈل (آٹھویں) پاسمڈل سرٹیفکیٹ، ب فارم/CNIC
ایف اے / آئی کام / ایف ایس سیمیٹرک پاسمیٹرک سند، CNIC
ایسوسی ایٹ ڈگریانٹر پاسانٹر سند، CNIC
بی ایس (4 سال)انٹر پاس، بعض میں مخصوص مضامینانٹر سند اور رزلٹ کارڈ
بی ایس (5ویں سمسٹر میں داخلہ)14 سالہ ڈگری یا ایسوسی ایٹ ڈگریڈگری اور ٹرانسکرپٹ
بی ایڈ (1.5 یا 2.5 سال)16 یا 14 سالہ تعلیم، پروگرام کے مطابقڈگری، ٹرانسکرپٹ
ایم فل / ایم ایس / پی ایچ ڈی16 یا 18 سالہ تعلیم، مقررہ CGPAڈگری، ٹرانسکرپٹ، داخلہ ٹیسٹ

ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے لیے فیکلٹی کا تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو ہوتا ہے جس کا شیڈول اشتہار میں آتا ہے۔ عام یونیورسٹیوں میں ایم فل کے مراحل سمجھنے کے لیے ہمارا مضمون ایم فل میں داخلہ لینے کا طریقہ دیکھیں۔ دینی مدارس کی اسناد والے طلبہ کے لیے یونیورسٹی کبھی کبھار الگ داخلہ مہم بھی چلاتی ہے۔ اگر آپ کا شناختی کارڈ ابھی نہیں بنا تو ب فارم بنوانے کا طریقہ پڑھ لیں، کیونکہ اس کے بغیر اکاؤنٹ نہیں بنتا۔

میز پر بیٹھا شخص درخواست فارم اور کاغذات کا جائزہ لے رہا ہے، اہلیت کی جانچ

فیس چالان کہاں جمع ہوتا ہے اور کتنی رقم بنتی ہے؟

چالان پر یونیورسٹی کے مقرر کردہ بینکوں کے نام لکھے ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی شاخ میں نقد جمع کرا سکتے ہیں، اور چالان پر دیے گئے کنزیومر نمبر سے بہت سے طلبہ موبائل بینکنگ یا والٹ ایپ سے بھی ادائیگی کر لیتے ہیں۔ کون سا آپشن چلے گا، یہ اسی چالان پر درج ہدایت سے تصدیق کریں۔

فیس ہر سمسٹر بدلتی ہے۔ خزاں 2026 میں نجی تعلیمی ویب سائٹس نے پہلی سمسٹر کی فیس تقریباً یوں بتائی، جو صرف اندازہ ہے:

  • میٹرک اور ایف اے/آئی کام: تقریباً 5 ہزار روپے
  • ایسوسی ایٹ ڈگری: تقریباً 5,500 سے 7 ہزار روپے
  • بی ایس: تقریباً 18 ہزار روپے سے شروع
  • بی ایڈ: تقریباً 30 ہزار روپے

اصل رقم صرف آپ کے چالان اور یونیورسٹی کی "Fee" فائل میں ہوگی۔ مستحق طلبہ کے لیے یونیورسٹی کی فنانشل سپورٹ اسکیم بھی ہے جس کی تفصیل ویب سائٹ پر موجود ہے۔

لیپ ٹاپ کے سامنے بینک کارڈ اور رسیدیں تھامے ہاتھ، فیس کی آن لائن ادائیگی

داخلے کے بعد کتابیں، اسٹڈی سینٹر اور ٹیوٹر

یہی وہ حصہ ہے جو اکثر نئے طلبہ کو معلوم نہیں ہوتا:

  • کتابیں: فیس کی تصدیق کے بعد کورس کی کتابیں اور اسائنمنٹ کا شیڈول ڈاک سے آپ کے پتے پر آتا ہے۔ کتابیں دیر سے آئیں تو ویب سائٹ کے "Books" حصے سے ای بکس ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
  • اسٹڈی سینٹر: یونیورسٹی آپ کے پتے کے قریب کسی اسکول یا کالج کو اسٹڈی سینٹر مقرر کرتی ہے، جہاں ورکشاپس اور بعض ٹیوٹوریل میٹنگز ہوتی ہیں۔
  • ٹیوٹر: ہر کورس کے لیے ایک ٹیوٹر مقرر ہوتا ہے جو اسائنمنٹس چیک کرتا ہے۔ اس کا نام، پتہ اور فون نمبر CMS پورٹل یا ڈاک سے ملنے والے خط پر ہوتا ہے۔
  • Aaghi پورٹل: یونیورسٹی کا آن لائن لرننگ سسٹم، جہاں بہت سے پروگراموں کی اسائنمنٹس اپ لوڈ ہوتی ہیں اور لیکچر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اپنا ریجنل دفتر معلوم کرنے کے لیے ویب سائٹ پر "Regional Services" صفحہ کھولیں؛ کتاب نہ ملنے یا ٹیوٹر سے رابطہ نہ ہونے کی شکایت وہیں ہوتی ہے۔

کتابوں کو بھیجنے کے لیے پیک کرتے ہاتھ، اوپن یونیورسٹی کی کتابیں بذریعہ ڈاک

اسائنمنٹس اور ورکشاپس کو ہلکا نہ لیں

اوپن یونیورسٹی میں امتحان دینے کا حق اسائنمنٹس سے ملتا ہے۔ عموماً فل کریڈٹ کورس کی دو اور ہاف کریڈٹ کورس کی ایک اسائنمنٹ ہوتی ہے، اور ان کے نمبر فائنل رزلٹ میں بھی شامل ہوتے ہیں۔

  • اسائنمنٹ ہاتھ سے لکھیں یا Aaghi پر اپ لوڈ کریں، جو طریقہ آپ کے پروگرام کے لیے مقرر ہو۔
  • ہر اسائنمنٹ پر رول نمبر، کورس کوڈ اور سمسٹر ضرور لکھیں۔
  • آخری تاریخ "Assignment Schedule" صفحے پر ہوتی ہے؛ دیر کی صورت میں ٹیوٹر قبول نہیں کرتا۔
  • کسی دوسرے کی اسائنمنٹ نقل کرنے پر نمبر صفر ہو سکتے ہیں۔

بی ایس، بی ایڈ اور سائنس کے بعض کورسز میں ورکشاپ (عموماً چند دن کی حاضری) لازمی ہوتی ہے۔ اس کی تاریخیں "Workshop Schedule" پر آتی ہیں۔ ورکشاپ چھوٹنے سے اکثر وہ کورس دوبارہ لینا پڑتا ہے، اس لیے نوکری والے حضرات چھٹی پہلے سے لے لیں۔

کلاس روم میں بالغ طلبہ اور استاد کی ورکشاپ جس میں ایک طالب علم سوال پوچھ رہا ہے

پرانے طلبہ اگلے سمسٹر کی انرولمنٹ کیسے کرائیں؟

جو طالب علم پہلے سے پڑھ رہا ہے اسے نیا فارم نہیں بھرنا ہوتا۔ وہ CMS پورٹل پر اپنے رول نمبر سے لاگ ان کر کے اگلے سمسٹر کے کورس منتخب کرتا ہے اور نیا چالان جمع کراتا ہے۔ اس کی آخری تاریخ عام طور پر نئے داخلوں سے کچھ دن بعد ہوتی ہے۔

فارم کیوں رکتا ہے؟ عام غلطیاں اور ان کا حل

مسئلہوجہحل
داخلہ "Objection" میں چلا گیاسند دھندلی یا نامکمل اپ لوڈصاف اسکین دوبارہ بھیجیں، ایڈمیشن آبجیکشن صفحہ چیک کریں
نام میں فرقفارم اور سند میں ہجے مختلفسند کے مطابق درست کرائیں
فیس جمع ہوئی مگر داخلہ نظر نہیں آتابینک سے تصدیق میں تاخیرچند دن انتظار، پھر رسید کے ساتھ adms@aiou.edu.pk پر ای میل
کتابیں نہیں پہنچیںغلط یا نامکمل پتہریجنل دفتر سے رابطہ، تب تک ای بکس سے پڑھیں
اہلیت پوری نہیںغیر ملکی یا مدرسہ سند کی ایکویویلنس نہیںپہلے متعلقہ ادارے سے مساوی سند بنوائیں

یونیورسٹی کی ہیلپ لائن اور ہیلپ ڈیسک کا لنک بھی ویب سائٹ پر دیا گیا ہے۔ کسی ایجنٹ کو پیسے دینے کی ضرورت نہیں، یہ سارا کام خود ہو جاتا ہے۔

کی بورڈ کے پاس کلپ بورڈ پر لکھتا شخص، فارم کی غلطیاں درست کرنا

AIOU کی ڈگری آسان ہے، شرط صرف وقت کی پابندی ہے

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا طریقہ خود مشکل نہیں: پراسپیکٹس دیکھیں، آن لائن فارم بھریں اور چالان وقت پر جمع کرائیں۔ اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے، یعنی اسائنمنٹس کی تاریخیں، ورکشاپ کی حاضری اور رول نمبر سلپ کا انتظار۔ جو طالب علم ان تین چیزوں کو کیلنڈر پر لکھ لیتا ہے، وہ گھر بیٹھے ڈگری مکمل کر لیتا ہے۔ ڈگری ملنے کے بعد اسے بیرونِ ملک یا ملازمت کے لیے استعمال کرنا ہو تو HEC ڈگری اٹیسٹیشن کا طریقہ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ بھی پڑھ لیں۔

گریجویشن گاؤن اور ٹوپی پہنے عمر رسیدہ افراد، عمر کی حد کے بغیر تعلیم

اکثر پوچھے گئے سوالات

AIOU میں داخلے کی کوئی عمر کی حد ہے؟

زیادہ تر فاصلاتی (ODL) پروگراموں میں عمر کی بالائی حد نہیں ہوتی، اس لیے نوکری پیشہ افراد اور گھریلو خواتین بھی داخلہ لیتے ہیں۔ کسی خاص پروگرام کی شرط ہو تو وہ پراسپیکٹس میں لکھی ہوتی ہے۔

AIOU کے داخلے سال میں کتنی بار ہوتے ہیں؟

سال میں دو بار: خزاں (Autumn) سمسٹر کے داخلے عموماً جولائی اگست میں اور بہار (Spring) سمسٹر کے داخلے عموماً جنوری فروری میں کھلتے ہیں۔ صحیح تاریخیں ہر بار aiou.edu.pk پر اشتہار میں دیکھیں۔

کیا AIOU کی ڈگری HEC سے تسلیم شدہ ہے؟

جی ہاں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک وفاقی سرکاری یونیورسٹی ہے اور HEC سے تسلیم شدہ ہے۔ اس کی ڈگری کی HEC تصدیق بھی عام یونیورسٹیوں کی طرح ہوتی ہے۔

کیا بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی AIOU میں داخلہ لے سکتے ہیں؟

جی ہاں، یونیورسٹی کا الگ ڈائریکٹوریٹ بیرونِ ملک طلبہ کو منتخب پروگراموں (میٹرک، انٹر، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس، بی ایڈ، پی جی ڈی) میں آن لائن داخلہ دیتا ہے۔ ان کی فیس اور طریقہ الگ ہے، اس لیے انٹرنیشنل پراسپیکٹس دیکھیں۔

اگر اسائنمنٹ جمع نہ ہو تو کیا امتحان دے سکتے ہیں؟

عام اصول یہ ہے کہ جس کورس کی مقررہ اسائنمنٹس میں پاس نمبر نہ ہوں اس کی رول نمبر سلپ جاری نہیں ہوتی۔ اس لیے اسائنمنٹس وقت پر ٹیوٹر کو بھیجیں یا Aaghi پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔

AIOU کا داخلہ فارم دستی بھی ملتا ہے؟

میٹرک، انٹر، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایڈ اور اے ٹی ٹی سی جیسے پروگراموں کے دستی فارم ریجنل دفاتر اور پراسپیکٹس سیل پوائنٹس سے ملتے ہیں، لیکن آن لائن فارم زیادہ تیز اور غلطی سے پاک رہتا ہے۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں