بورڈ سے سند کی تصدیق کرانے کا طریقہ — میٹرک اور انٹر کی ویریفکیشن

تعلیمی دستاویزات و داخلے
طالب علم اپنی میٹرک کی سند کے ساتھ — بورڈ سے تصدیق کی تیاری

بورڈ سے سند کی تصدیق کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ جس بورڈ نے آپ کی میٹرک یا انٹر کی سند جاری کی، اسی کے آن لائن پورٹل پر رول نمبر، سال اور سیشن ڈال کر ویریفکیشن فارم بنائیں، بینک چالان سے فیس ادا کریں، پھر فارم سند کی صاف کاپیوں کے ساتھ ڈاک سے بھیجیں یا بورڈ کے سہولت مرکز میں جمع کرائیں۔

یہ تصدیق اس وقت مانگی جاتی ہے جب آپ سرکاری نوکری کے لیے کاغذات جمع کراتے ہیں، کسی یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں، یا بیرونِ ملک جانے سے پہلے IBCC سے مہر لگوانی ہو۔ یاد رکھیں کہ HEC میٹرک اور انٹر کی اسناد کی تصدیق نہیں کرتا؛ یہ کام صرف تعلیمی بورڈ کا ہے۔ نیچے لاہور بورڈ اور وفاقی بورڈ کی مثال سے بورڈ سے سند کی تصدیق کرانے کا طریقہ، کاغذات اور فیس کا اندازہ دیا گیا ہے۔

ڈپلومہ تھامے خوش طالب علم — بورڈ سے سند کی تصدیق کرانے کا طریقہ جاننے سے پہلے اپنی سند تیار رکھیں

ویریفکیشن اور اٹیسٹیشن میں کیا فرق ہے؟

اکثر طلبہ دونوں کو ایک ہی کام سمجھتے ہیں، حالانکہ بورڈ کے پورٹل پر یہ دو الگ خدمات ہیں اور فیس بھی الگ ہے:

پہلوویریفکیشن (تصدیق)اٹیسٹیشن
مقصدبورڈ بتاتا ہے کہ یہ سند اس کے ریکارڈ سے ملتی ہے اور اصلی ہےسند کی کاپی پر بورڈ کی مہر اور دستخط لگتے ہیں
کس کو چاہیےنوکری دینے والا ادارہ، یونیورسٹی، IBCC، WESوہ ادارہ جو مہر شدہ کاپی مانگے
نتیجہتصدیقی خط یا آن لائن ریکارڈمہر لگی کاپی

اگر آپ کو یقین نہیں کہ کون سی چاہیے تو جس ادارے نے کاغذات مانگے ہیں، اس کے اشتہار یا خط کو غور سے پڑھیں۔ IBCC کی مہر کا پورا عمل ہمارے آئی بی سی سی اٹیسٹیشن والے مضمون میں الگ سے بیان ہے۔

لاہور بورڈ میں بورڈ سے سند کی تصدیق کرانے کا طریقہ

BISE لاہور نے ویریفکیشن کے لیے ای سروسز پورٹل بنا رکھا ہے۔ پنجاب کے دوسرے بورڈ (راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان وغیرہ) میں بھی بورڈ سے سند کی تصدیق کرانے کا طریقہ ملتا جلتا ہے، بس پورٹل ان کا اپنا ہے۔

  1. پورٹل کھولیں اور "مقامی" (Local) یا "بیرونِ ملک" (Abroad) میں سے ایک منتخب کریں۔
  2. امتحان کی قسم (میٹرک یا انٹر)، سال، سیشن (سالانہ یا سپلیمنٹری) اور رول نمبر درج کر کے اپنا ریکارڈ نکالیں۔
  3. فون نمبر اور ڈاک کا پورا پتہ لکھیں، پھر درخواست فارم ڈاؤن لوڈ کریں۔
  4. فارم پر دی گئی رقم HBL برانچ، HBL Konnect یا 1-Bill کے ذریعے جمع کرائیں۔
  5. فارم کے ساتھ سند یا رزلٹ کارڈ کی دو صاف فوٹو کاپیاں لگائیں۔ 2007 سے پہلے پاس کیے گئے امتحان کے لیے پاسپورٹ سائز کی دو تصاویر بھی لگائیں۔
  6. سارا پیکٹ بورڈ کے دفتر، 86 موزنگ روڈ لاہور، کے پتے پر بھیجیں۔ فوری کام کے لیے بورڈ کا سہولت مرکز بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیپ ٹاپ پر کھلا ویب پیج جہاں بورڈ کے پورٹل پر ویریفکیشن فارم بھرا جاتا ہے

وفاقی بورڈ (FBISE) کے تین راستے

اسلام آباد اور وفاقی اسکولوں کے طلبہ کی سند FBISE کے آن لائن سروسز پورٹل سے تصدیق ہوتی ہے، جہاں "Verification of Certificates" اور "Verification of Result Card" کے الگ آپشن ہیں۔

  • آن لائن: ویب سائٹ سے چالان بنائیں، HBL میں جمع کرائیں، پھر پورٹل پر لاگ ان کر کے فارم بھریں۔ عموماً کاغذ بھیجنے کی ضرورت نہیں، البتہ بہت پرانے (1989 یا اس سے پہلے کے) ریکارڈ کے لیے اسکین کاپیاں مانگی جاتی ہیں۔
  • ڈاک یا کورئیر: چالان ادا کر کے فارم ڈاؤن لوڈ کریں اور سیکرٹری FBISE، سیکٹر H-8/4 اسلام آباد کو بھیج دیں۔
  • خود جا کر: بورڈ کے ون ونڈو سیل سے فارم لیں، احاطے میں موجود HBL برانچ میں فیس جمع کرائیں اور وہیں کاغذات دیں۔ اکثر کام اسی دن ہو جاتا ہے۔
لکڑی کی میز پر لیپ ٹاپ پر ٹائپ کرتا شخص، وفاقی بورڈ کی آن لائن درخواست

فیس کتنی لگتی ہے؟ اندازاً رقم

نیچے دی گئی رقمیں تیسرے فریق کی رپورٹس سے لی گئی ہیں، بورڈ کے کسی تازہ سرکاری نوٹیفکیشن سے نہیں۔ بورڈ ہر سال فیس بدل سکتے ہیں، اس لیے آپ کے ڈاؤن لوڈ کیے گئے فارم یا چالان پر جو رقم لکھی ہو، وہی حتمی ہے۔

بورڈملک کے اندربیرونِ ملک کے لیے
BISE لاہور (فی دستاویز)تقریباً 3,100 روپےتقریباً 6,100 روپے
FBISE (فی دستاویز)تقریباً 1,000 روپےتقریباً 40 امریکی ڈالر کے برابر

سند اور رزلٹ کارڈ دونوں کی تصدیق چاہیے تو فیس عموماً دو دستاویزات کی لگتی ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بورڈز کی فیس الگ ہے؛ ان کی ویب سائٹ کا "Fee Structure" صفحہ دیکھیں۔

دفتر میں عینک لگائے خاتون کاغذات اور فیس کا حساب دیکھتے ہوئے

جب نوکری دینے والا ادارہ خود بورڈ کو خط لکھے

ایک صورت جس کا ذکر کم ہوتا ہے: سرکاری محکمے، فوج، پولیس، بینک اور بعض یونیورسٹیاں امیدوار سے تصدیق نہیں منگواتیں بلکہ سند کی کاپی کے ساتھ براہِ راست بورڈ کے ویریفکیشن سیکشن کو خط بھیجتی ہیں۔ بورڈ جواب بھی سیدھا اسی ادارے کو دیتا ہے تاکہ درمیان میں کوئی ردوبدل نہ ہو سکے۔

ایسے میں آپ کے کرنے کے کام یہ ہیں:

  • ادارے سے پوچھیں کہ تصدیق کی فیس کا چالان آپ کو جمع کرانا ہے یا ادارہ خود ادا کرے گا۔ کئی بورڈ یہ فیس امیدوار سے لیتے ہیں۔
  • اپنی سند کی کاپی صاف اور مکمل دیں تاکہ رول نمبر اور سال واضح پڑھے جائیں۔
  • اگر مہینے بھر میں جواب نہ آئے تو ادارے کا ریفرنس نمبر لے کر بورڈ کے ویریفکیشن سیکشن یا ہیلپ لائن سے خود پیروی کریں۔
انٹرویو کے دوران امیدوار کا سی وی ہاتھ میں، نوکری کے لیے تعلیمی اسناد کی جانچ

سندھ اور دوسرے صوبوں میں ڈیجیٹل نظام

مئی 2025 کی رپورٹس کے مطابق IBCC کے ایک نوٹیفکیشن کے بعد سندھ میں سربمہر لفافوں کے ذریعے تصدیق ختم کر کے آن لائن نظام اپنایا جا رہا ہے۔ اس وقت کراچی کا میٹرک بورڈ، سکھر بورڈ اور ضیاء الدین بورڈ اس مرکزی نظام سے جڑے بتائے گئے تھے، جبکہ باقی بورڈز کو اپنا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے کا کہا گیا۔ اب کون سا بورڈ جڑ چکا ہے، اس کی تازہ صورتحال IBCC کی ویب سائٹ اور اپنے بورڈ کے نوٹس بورڈ پر دیکھیں۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بورڈز (پشاور، مردان، ایبٹ آباد، کوئٹہ وغیرہ) میں بھی آن لائن درخواست اور بینک چالان کا رواج بڑھ رہا ہے، مگر کچھ جگہ اب بھی دفتر جا کر فارم جمع کرانا پڑتا ہے۔

بائنڈر میں لگے پرانے کاغذات، بورڈ کا ریکارڈ ڈیجیٹل ہونے سے پہلے

درخواست کیوں رک جاتی ہے؟ پانچ عام غلطیاں

مسئلہحل
غلط سیشن یا سال منتخب کرنا (سالانہ کی جگہ سپلیمنٹری)رزلٹ کارڈ دیکھ کر سیشن اور سال دوبارہ درج کریں
چالان ادا ہوا مگر رسید نمبر پورٹل پر نہیں ڈالابینک کی رسید سنبھال کر رکھیں اور نمبر فوراً درج کریں
دھندلی یا آدھی کٹی فوٹو کاپیپوری سند کی صاف، سیدھی کاپی لگائیں
سند پر نام یا تاریخ پیدائش شناختی کارڈ سے مختلفپہلے سند میں غلطی درست کرائیں
اصل سند گم یا پھٹی ہوئیپہلے میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند بنوائیں
رسمی لباس میں خاتون میز پر دستاویزات جانچتے ہوئے تاکہ فارم میں غلطی نہ رہے

پہلے بورڈ، پھر IBCC اور سفارتخانہ: یہ ترتیب نہ توڑیں

سب سے زیادہ وقت اس وقت ضائع ہوتا ہے جب طلبہ سیدھے IBCC یا وزارتِ خارجہ پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سے بورڈ ویریفکیشن نہ ہونے پر واپس لوٹا دیے جاتے ہیں۔ صحیح ترتیب یہ ہے: پہلے اپنا بورڈ، پھر IBCC، پھر اگر بیرونِ ملک جانا ہو تو MOFA اور سفارتخانہ۔ پوری زنجیر ہمارے دستاویزات کی تصدیق والے مضمون میں دی گئی ہے۔ بورڈ سے سند کی تصدیق کرانے کا طریقہ ایک بار سمجھ لیں تو یہ کام عموماً گھر بیٹھے چند دنوں میں ہو جاتا ہے؛ بس فیس اور پتہ ہمیشہ بورڈ کی اپنی ویب سائٹ سے تازہ دیکھ کر چلیں۔

ڈاک ٹکٹ لگے پرانے ہوائی ڈاک کے لفافے، بیرونِ ملک بھیجی جانے والی تصدیق شدہ اسناد

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا HEC میٹرک یا انٹر کی سند کی تصدیق کرتا ہے؟

نہیں۔ HEC صرف یونیورسٹی کی ڈگری اور ٹرانسکرپٹ اٹیسٹ کرتا ہے۔ میٹرک (SSC) اور انٹر (HSSC) کی سند کی تصدیق وہی بورڈ کرتا ہے جس نے سند جاری کی، اور اس کے بعد ضرورت ہو تو IBCC مہر لگاتا ہے۔

بورڈ ویریفکیشن میں کتنے دن لگتے ہیں؟

یہ بورڈ اور طریقے پر منحصر ہے۔ تیسرے فریق کی رپورٹس کے مطابق وفاقی بورڈ آن لائن درخواست پر فیس کی تصدیق کے بعد تقریباً ایک کام کے دن میں اور لاہور بورڈ ڈاک سے عموماً چند کام کے دنوں میں کام کر دیتا ہے۔ پرانے سالوں (1990 سے پہلے یا 2006 سے پہلے) کے ریکارڈ میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

کیا کوئی اور شخص میری طرف سے بورڈ سے تصدیق کروا سکتا ہے؟

آن لائن درخواست اور ڈاک والے طریقے میں عام طور پر آپ کا خود جانا ضروری نہیں۔ دفتر میں ہاتھوں ہاتھ کام کے لیے کئی بورڈ اتھارٹی لیٹر اور آپ کے شناختی کارڈ کی کاپی مانگتے ہیں، اس لیے جانے سے پہلے اپنے بورڈ کی ہیلپ لائن سے پوچھ لیں۔

نوکری والا ادارہ تصدیق مانگے تو کیا مجھے خود بورڈ جانا ہوگا؟

ضروری نہیں۔ بہت سے سرکاری محکمے اور ادارے سند کی کاپی کے ساتھ براہِ راست بورڈ کو خط بھیجتے ہیں اور بورڈ جواب انہی کو دیتا ہے۔ بعض بورڈ اس کی فیس امیدوار سے لیتے ہیں، اس لیے ادارے سے پوچھ لیں کہ چالان آپ نے جمع کرانا ہے یا نہیں۔

سند پر نام غلط ہو تو کیا تصدیق ہو جائے گی؟

بورڈ وہی تصدیق کرتا ہے جو اس کے ریکارڈ میں ہے۔ اگر شناختی کارڈ اور سند کے نام یا تاریخ پیدائش میں فرق ہے تو پہلے بورڈ سے درستی کروائیں، ورنہ آگے IBCC یا سفارتخانے میں اعتراض لگ سکتا ہے۔

بیرونِ ملک کے لیے ویریفکیشن کی فیس زیادہ کیوں ہے؟

بیشتر بورڈ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک کے لیے الگ فیس رکھتے ہیں۔ بیرونِ ملک والی تصدیق عموماً IBCC، WES یا کسی غیر ملکی ادارے کے لیے ہوتی ہے اور اس کی فیس مقامی تصدیق سے تقریباً دگنی ہوتی ہے۔ تازہ رقم بورڈ کی ویب سائٹ پر دیکھیں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں