میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند حاصل کرنے کا طریقہ — کاغذات، فیس اور ارجنٹ آپشن

تعلیمی دستاویزات و داخلے
دو طالب علم اپنی اسناد اور تمغے ہاتھ میں لیے کھڑے ہیں

میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے تعلیمی بورڈ کی ویب سائٹ سے ڈپلیکیٹ سند کا فارم اور فیس چالان ڈاؤن لوڈ کریں، بینک میں فیس جمع کروائیں، فارم کے ساتھ شناختی کارڈ یا ب فارم، رزلٹ کارڈ کی کاپی اور تصویر لگائیں، اور بورڈ آفس میں جمع کروائیں یا ڈاک سے بھیجیں۔

میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند حاصل کرنے کا طریقہ ہی انٹر کی سند اور رزلٹ کارڈ (DMC) کے لیے بھی چلتا ہے، صرف فارم اور فیس الگ ہوتی ہے۔ نیچے ہم نے پنجاب کے بورڈز (لاہور، ملتان وغیرہ)، وفاقی بورڈ FBISE اور خیبر پختونخوا کے بورڈز کی آفیشل ہدایات کو سامنے رکھ کر بتایا ہے کہ کون سا کاغذ کب چاہیے، فیس کا اندازہ کیا ہے اور درخواست کس وجہ سے واپس آ جاتی ہے۔

میز پر ترتیب سے رکھے گئے کاغذات کا ڈھیر

سند گم ہوتے ہی یہ تین معلومات اکٹھی کر لیں

بورڈ کا فارم بھرنے سے پہلے کچھ معلومات ہاتھ میں ہونی چاہئیں، ورنہ فارم ادھورا رہ جاتا ہے:

  1. رول نمبر اور پاس ہونے کا سال: یہ سب سے ضروری ہے۔ پرانی فوٹو کاپی، موبائل میں تصویر، کالج داخلے کی فائل یا اسکول کا ریکارڈ دیکھیں۔ اگر صرف سال یاد ہے تو بورڈ کی ویب سائٹ پر نتیجہ نام سے تلاش کرنے کا آپشن بھی کچھ بورڈز دیتے ہیں — اس کا طریقہ میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے والے مضمون میں دیکھیں۔
  2. امتحان کا سیشن: سالانہ (Annual) یا سپلیمنٹری، اور ریگولر یا پرائیویٹ۔
  3. کون سا کاغذ گم ہوا: سند (Certificate) یا رزلٹ کارڈ/ڈی ایم سی۔ دونوں کا فارم اور فیس الگ ہے۔

اگر سند چوری ہوئی ہے تو قریبی تھانے میں رپورٹ درج کروا لیں۔ ہر بورڈ اسے لازمی نہیں مانگتا، لیکن چوری کے کیس میں یہ رپورٹ آپ کے حق میں ثبوت بنتی ہے۔

الماری میں رکھی ہوئی فائلیں اور رجسٹر جن میں پرانا ریکارڈ تلاش کیا جاتا ہے

میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند حاصل کرنے کا طریقہ: بورڈ آفس تک 6 مراحل

زیادہ تر بورڈز میں درخواست کا ڈھانچہ ایک جیسا ہے:

  1. فارم ڈاؤن لوڈ کریں: اپنے بورڈ کی ویب سائٹ پر Duplicate Documents یا Downloads والے حصے میں جائیں۔ لاہور بورڈ میں یہ کام ای پورٹل سے ہوتا ہے، جبکہ FBISE کے ڈپلیکیٹ دستاویزات والے صفحے پر سند، مارک شیٹ اور رجسٹریشن کارڈ کے الگ فارم موجود ہیں۔
  2. فیس چالان بنائیں: آن لائن چالان پر رول نمبر اور سروس (نارمل یا ارجنٹ) منتخب کریں۔
  3. فیس جمع کروائیں: پنجاب بورڈز اور FBISE میں عموماً HBL برانچ یا 1Bill کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے۔ چالان کی بینک والی رسید سنبھال کر رکھیں۔
  4. فارم بھریں اور تصدیق کروائیں: نام اور والد کا نام بالکل ویسے لکھیں جیسے اصل سند پر تھا۔ کچھ بورڈز (مثلاً ملتان) فارم پر تازہ تصویر لگا کر کسی رجسٹرڈ ادارے کے سربراہ سے تصدیق مانگتے ہیں۔
  5. کاغذات ساتھ لگائیں: شناختی کارڈ کی کاپی، رزلٹ کارڈ کی کاپی اور جو بھی بورڈ مانگے (اگلا حصہ دیکھیں)۔
  6. جمع کروائیں: بورڈ کے ون ونڈو یا فیسیلیٹیشن سینٹر میں خود جائیں، یا ڈاک/کوریئر سے بورڈ کے سیکرٹری کے نام بھیج دیں۔ FBISE کا پتہ سیکٹر H-8/4 اسلام آباد ہے۔

درخواست جمع ہونے کے بعد بورڈ اپنے ریکارڈ سے آپ کا نتیجہ ملاتا ہے اور نئی سند پرنٹ کرتا ہے۔ اسی لیے پرانا ریکارڈ جتنا واضح ہو، کام اتنا جلدی ہوتا ہے۔

درخواست فارم پر دستخط کرتا ہوا شخص — میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند حاصل کرنے کا طریقہ

حلف نامہ اور اخباری اشتہار: کب ضروری، کب نہیں؟

یہاں لوگ سب سے زیادہ پیسہ اور وقت ضائع کرتے ہیں، کیونکہ ہر بورڈ کی شرط الگ ہے:

بورڈاخباری اشتہارحلف نامہکہاں سے کنفرم کریں
ملتان بورڈآفیشل ہدایات میں سند گم ہونے کا اخباری تراشہ لازمیفارم کی تازہ ہدایات دیکھیںبورڈ کا FAQ صفحہ
FBISE اسلام آبادآفیشل صفحے پر صرف فارم اور چالان کا ذکرفارم کی ہدایات دیکھیںfbise.edu.pk
پشاور بورڈایک پرانے نوٹیفکیشن میں یہ شرط ختم کرنے کا ذکرایضاًbisep.edu.pk
دوسرے بورڈزفارم پر لکھی ہدایت کے مطابقفارم پر لکھی ہدایت کے مطابقاپنے بورڈ کی ویب سائٹ

ملتان بورڈ کی آفیشل ہدایت کے مطابق فارم کے ساتھ تازہ تصویر، تصدیق شدہ شناختی کارڈ کی کاپی اور کسی قومی اخبار میں سند گم ہونے کا اشتہار لگانا ہوتا ہے۔

اگر اشتہار مانگا جائے تو: کسی بھی قومی یا مقامی اخبار میں چھوٹا سا "گمشدگی" کا اشتہار دیں جس میں نام، والد کا نام، رول نمبر، سال اور بورڈ کا نام لکھا ہو۔ اخبار کا پورا صفحہ یا تراشہ تاریخ سمیت فارم کے ساتھ لگائیں۔

اگر حلف نامہ مانگا جائے تو: اسٹامپ پیپر پر لکھیں کہ سند گم ہو گئی ہے، ملنے پر واپس کر دیں گے، اور اسے اوتھ کمشنر سے تصدیق کروائیں۔

پارک میں بینچ پر بیٹھا شخص اخبار پڑھ رہا ہے جس میں گمشدگی کے اشتہار چھپتے ہیں

درخواست کے لفافے میں کیا کیا ہونا چاہیے

بورڈ کے کاؤنٹر پر جانے یا ڈاک سے بھیجنے سے پہلے یہ فہرست چیک کر لیں:

  • مکمل بھرا ہوا ڈپلیکیٹ سند کا فارم
  • بینک سے تصدیق شدہ فیس چالان کی اصل کاپی
  • امیدوار کے شناختی کارڈ کی کاپی (18 سال سے کم ہو تو ب فارم اور والد کے شناختی کارڈ کی کاپی)
  • رزلٹ کارڈ یا سند کی فوٹو کاپی، اگر کوئی پرانی کاپی موجود ہو
  • پاسپورٹ سائز تصاویر (کچھ بورڈز صرف پرانے سالوں کے امیدواروں سے مانگتے ہیں)
  • اخباری تراشہ، حلف نامہ یا پولیس رپورٹ، صرف اگر آپ کا بورڈ مانگے
  • ریگولر طالب علم ہو تو اسکول کا اتھارٹی لیٹر، اگر بورڈ نے کہا ہو
  • اپنا مکمل ڈاک کا پتہ اور فعال موبائل نمبر

اگر سند پر نام یا تاریخ پیدائش بھی غلط تھی تو ڈپلیکیٹ کے ساتھ وہ غلطی نہیں بدلے گی۔ اس کا الگ طریقہ ہے جو سند میں غلطی درست کرانے والے مضمون میں ہے۔

دو ساتھی میز پر کاغذات کی جانچ کر رہے ہیں

نارمل یا ارجنٹ سروس؟ فیس کا اندازہ

فیس ہر بورڈ اور ہر سال الگ ہوتی ہے، اس لیے نیچے دی گئی رقم صرف اندازہ ہے۔ یہ لاہور بورڈ کے بارے میں دسمبر 2023 کی میڈیا رپورٹس سے لی گئی ہے:

دستاویزسروستقریبی فیس (لاہور بورڈ، 2023)
ڈپلیکیٹ رزلٹ کارڈنارملتقریباً 200 روپے
ڈپلیکیٹ سندنارملتقریباً 4,000 روپے
ڈپلیکیٹ سندارجنٹتقریباً 5,000 روپے
ٹرپلیکیٹ سندنارمل / ارجنٹ10,000 روپے سے زیادہ

اصل اور تازہ رقم وہی ہے جو آپ کے بورڈ کے آن لائن چالان پر آئے، اس لیے چالان بناتے وقت ہی رقم دیکھ لیں۔ لاہور بورڈ کی ویب سائٹ پر فیس کے نوٹیفکیشن بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ارجنٹ کب لیں؟ اگر یونیورسٹی داخلے، نوکری کی آخری تاریخ یا ویزا کی وجہ سے جلدی ہے تو ارجنٹ فیس دیں اور خود بورڈ کے فیسیلیٹیشن سینٹر جائیں۔ ارجنٹ فیس دے کر درخواست ڈاک سے بھیجنے کا فائدہ آدھا رہ جاتا ہے، کیونکہ ڈاک میں ہی کئی دن لگ جاتے ہیں۔

بینک کاؤنٹر پر رقم کا لین دین ہو رہا ہے

سند اور ڈی ایم سی دونوں گم ہوں تو کیا الگ درخواست دیں؟

جی ہاں۔ بورڈ کے نظام میں سند (Certificate) اور رزلٹ کارڈ (DMC یا Marks Sheet) دو الگ دستاویزات ہیں:

  • رزلٹ کارڈ/DMC: اس میں ہر مضمون کے نمبر ہوتے ہیں۔ داخلوں اور میرٹ کے لیے یہی زیادہ مانگا جاتا ہے۔ اس کی فیس کم ہے اور یہ جلدی بن جاتا ہے۔ FBISE میں اس کی درخواست کنٹرولر امتحانات (سیکریسی) کو جاتی ہے۔
  • سند: یہ پاس ہونے کا رسمی ثبوت ہے جو نتیجے کے کچھ عرصے بعد جاری ہوتی ہے۔ ملازمت، اٹیسٹیشن اور بیرونِ ملک کاموں میں یہ ضرور مانگی جاتی ہے۔

دونوں گم ہوں تو دونوں کے فارم اور چالان الگ بھریں، لیکن ایک ہی لفافے یا ایک ہی وزٹ میں جمع کروا سکتے ہیں۔ انٹر کی سند کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یونیورسٹی کی ڈگری کا طریقہ بالکل مختلف ہے، اس کے لیے ڈپلیکیٹ ڈگری حاصل کرنے کی گائیڈ دیکھیں۔

کلاس روم میں امتحان دیتے ہوئے طلبہ

یہ 5 غلطیاں درخواست واپس کروا دیتی ہیں

  • غلط رول نمبر یا سال: بورڈ ریکارڈ نہیں ملا پاتا اور فارم واپس آ جاتا ہے۔ دو بار چیک کریں۔
  • پرانا فارم: کسی دکان یا پرانی فائل کا فارم استعمال نہ کریں، ہمیشہ بورڈ کی ویب سائٹ سے تازہ فارم لیں۔
  • غلط سروس کی فیس: نارمل فیس دے کر ارجنٹ مانگنا یا غلط مد کا چالان بنانا۔ اس صورت میں فرق جمع کرنا پڑتا ہے۔
  • نامکمل پتہ: ڈاک سے سند منگوانے والوں کی سند غلط پتے کی وجہ سے واپس بورڈ پہنچ جاتی ہے۔ گلی، مکان نمبر اور پوسٹل کوڈ پورا لکھیں۔
  • ایجنٹ پر اندھا بھروسہ: کئی لوگ بورڈ کے باہر ایجنٹوں کو دگنی تین گنی رقم دیتے ہیں۔ پورا کام آپ خود چالان اور فارم سے کر سکتے ہیں، کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔

ڈاک سے بھیج رہے ہیں تو رجسٹرڈ ڈاک یا کوریئر استعمال کریں اور ٹریکنگ نمبر رکھیں۔

ہاتھ میں لفافہ اور خط جو ڈاک سے بھیجا جانا ہے

ڈپلیکیٹ سند اصل جتنی ہی معتبر ہے، بس اسے محفوظ رکھیں

بورڈ کی جاری کردہ ڈپلیکیٹ سند کی قانونی حیثیت اصل سند جیسی ہے۔ داخلے، نوکری، HEC، IBCC اور وزارتِ خارجہ کی تصدیق سب اسی پر ہو جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دوسری بار گم ہونے پر ٹرپلیکیٹ کی فیس بہت زیادہ ہے۔ اس لیے سند ملتے ہی اس کی واضح تصویر موبائل اور ای میل میں رکھیں، چند تصدیق شدہ فوٹو کاپیاں بنوائیں، اور اصل سند صرف اسی جگہ لے کر جائیں جہاں اسے دکھانا لازمی ہو۔ مختصر یہ کہ میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند حاصل کرنے کا طریقہ مشکل نہیں: درست رول نمبر، تازہ فارم، صحیح چالان اور مکمل پتہ ہو تو کام کسی ایجنٹ کے بغیر ہو جاتا ہے۔ ہر کام سے پہلے اپنے بورڈ کی ویب سائٹ پر تازہ فارم اور فیس ایک بار ضرور دیکھ لیں۔

اسناد اور ڈپلوموں کے درمیان خوش بیٹھا ہوا نوجوان

اکثر پوچھے گئے سوالات

میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند کتنے دن میں ملتی ہے؟

یہ بورڈ اور منتخب سروس پر منحصر ہے۔ لاہور بورڈ کے بارے میں 2023 کی رپورٹس کے مطابق ڈاک سے درخواست پر تقریباً 3 سے 7 ورکنگ دن لگتے تھے، جبکہ ارجنٹ فیس پر کام جلدی ہو جاتا ہے۔ موجودہ مدت اپنے بورڈ کی ویب سائٹ یا ہیلپ ڈیسک سے کنفرم کریں۔

کیا ڈپلیکیٹ سند کے لیے اخبار میں اشتہار دینا ضروری ہے؟

ہر بورڈ میں نہیں۔ ملتان بورڈ اپنی آفیشل ہدایات میں سند گم ہونے کا اخباری تراشہ مانگتا ہے، جبکہ کچھ بورڈز نے یہ شرط ختم کر دی ہے۔ پیسے خرچ کرنے سے پہلے اپنے بورڈ کا تازہ فارم ڈاؤن لوڈ کر کے اس کی ہدایات پڑھیں۔

میرے پاس رول نمبر نہیں، ڈپلیکیٹ سند کیسے ملے گی؟

اپنے اسکول سے رابطہ کریں، اسکول کے ریکارڈ میں آپ کا رول نمبر اور رجسٹریشن نمبر موجود ہوتا ہے۔ پرانے رزلٹ گزٹ، فوٹو کاپی یا داخلے کے کاغذات میں بھی رول نمبر مل جاتا ہے۔ آخری صورت میں بورڈ کے ریکارڈ سیکشن سے نام، والد کا نام اور پاس ہونے کا سال بتا کر تلاش کروائی جا سکتی ہے۔

کیا ڈپلیکیٹ سند نوکری اور داخلے کے لیے قابلِ قبول ہے؟

جی ہاں، بورڈ کی جاری کردہ ڈپلیکیٹ سند اصل سند کی طرح ہی معتبر ہے۔ اس پر عموماً Duplicate لکھا ہوتا ہے، لیکن ریکارڈ وہی ہوتا ہے۔ HEC، IBCC یا وزارتِ خارجہ کی تصدیق بھی اسی سند پر ہو جاتی ہے۔

کیا کوئی اور شخص میری طرف سے ڈپلیکیٹ سند لے سکتا ہے؟

اکثر بورڈز خونی رشتہ دار یا اتھارٹی لیٹر رکھنے والے نمائندے کو اجازت دیتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنا اور امیدوار کا شناختی کارڈ ساتھ لائے۔ بیرونِ ملک رہنے والے امیدوار ڈاک کے ذریعے بھی درخواست بھیج سکتے ہیں۔ شرائط ہر بورڈ میں الگ ہیں، اس لیے پہلے پوچھ لیں۔

ڈپلیکیٹ سند بھی گم ہو جائے تو کیا ہوگا؟

تب ٹرپلیکیٹ سند جاری ہوتی ہے جس کی فیس ڈپلیکیٹ سے کافی زیادہ رکھی جاتی ہے۔ لاہور بورڈ میں 2023 کی رپورٹس کے مطابق یہ فیس دس ہزار روپے سے زیادہ تھی۔ اس لیے ڈپلیکیٹ ملتے ہی اس کی کئی تصدیق شدہ کاپیاں بنوا کر اصل محفوظ رکھیں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں