میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ — ویب سائٹ، SMS کوڈ اور گزٹ 2026

تعلیمی دستاویزات و داخلے
بستہ اٹھائے طالبہ موبائل فون پر اپنا میٹرک کا نتیجہ دیکھ رہی ہے

میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے تعلیمی بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ کھول کر رزلٹ سیکشن میں رول نمبر ڈالیں، یا صرف رول نمبر لکھ کر بورڈ کے SMS کوڈ پر بھیج دیں (مثلاً لاہور 800291، فیڈرل بورڈ FB رول نمبر 5050)۔ رول نمبر نہ ہو تو بورڈ کا رزلٹ گزٹ PDF میں تلاش کریں۔

نویں اور دسویں کا نتیجہ پنجاب، فیڈرل، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بورڈ الگ الگ تاریخوں پر جاری کرتے ہیں، عموماً جولائی سے ستمبر کے درمیان۔ نتیجہ صبح جاری ہوتے ہی لاکھوں طلبہ ایک ساتھ ویب سائٹ کھولتے ہیں، اس لیے تینوں طریقے پہلے سے جان لینا فائدہ مند ہے۔ نیچے ہر بورڈ کے حساب سے مکمل رہنمائی دی گئی ہے۔

لیپ ٹاپ پر بورڈ کی ویب سائٹ میں میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ آزماتا طالب علم

ویب سائٹ پر میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ: 5 قدم

رول نمبر سے بورڈ کی سائٹ پر نتیجہ دیکھنا سب سے مستند طریقہ ہے کیونکہ یہاں ہر مضمون کے نمبر، گریڈ اور کل نمبر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

  1. موبائل یا کمپیوٹر کے براؤزر میں اپنے بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ کھولیں، مثلاً لاہور بورڈ کے لیے biselahore.com اور فیڈرل بورڈ کے لیے fbise.edu.pk۔
  2. مینو میں Results یا رزلٹ کا آپشن دبائیں۔
  3. امتحان منتخب کریں: SSC Part-I (نویں) یا SSC Part-II (دسویں)، اور سال اور Annual/Supplementary کا انتخاب درست کریں۔
  4. رول نمبر سلپ پر لکھا رول نمبر بغیر اسپیس کے درج کر کے Submit یا Search دبائیں۔
  5. نتیجہ کھلنے پر نام، والد کا نام اور رول نمبر ملا لیں، پھر اسکرین شاٹ لیں یا Print/Save as PDF کر لیں۔

رول نمبر پاس نہ ہو تو پہلے رول نمبر سلپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ دیکھ لیں، وہاں سے رول نمبر مل جائے گا۔

لیپ ٹاپ اور ہیڈ فون کے ساتھ گھر پر آن لائن رزلٹ دیکھتا نوجوان

انٹرنیٹ نہیں؟ پنجاب، فیڈرل اور پشاور بورڈ کے SMS کوڈ

بغیر انٹرنیٹ میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ SMS ہے، جس سے سادہ موبائل پر بھی نتیجہ چند سیکنڈ میں آ جاتا ہے۔ پنجاب کے بورڈز میں میسج میں صرف رول نمبر لکھیں، نام، کلاس یا کوئی اور لفظ نہ لکھیں۔ فیڈرل بورڈ کا فارمیٹ مختلف ہے۔

بورڈSMS کوڈمیسج کیسے لکھیں
لاہور800291رول نمبر
گوجرانوالہ800299رول نمبر
راولپنڈی800296رول نمبر
فیصل آباد800240رول نمبر
ملتان800293رول نمبر
ساہیوال800292رول نمبر
سرگودھا800290رول نمبر
ڈیرہ غازی خان800295رول نمبر
بہاولپور800298رول نمبر
فیڈرل بورڈ (FBISE)5050FB اسپیس رول نمبر
پشاور بورڈ9818رول نمبر

دھیان رکھیں:

  • یہ کوڈ 2026 کے نتائج کے موقع پر شائع ہوئے تھے۔ کوڈ کبھی کبھار بدل جاتے ہیں، اس لیے بورڈ کی ویب سائٹ یا رزلٹ کی پریس ریلیز سے ایک بار تصدیق کر لیں۔
  • ہر SMS پر عام میسج سے زیادہ چارجز کٹ سکتے ہیں، بار بار میسج نہ بھیجیں۔
  • رش کی وجہ سے جواب آنے میں کچھ منٹ لگ سکتے ہیں۔
کلاس روم میں کتاب کے ساتھ موبائل پر میسج کے ذریعے نتیجہ دیکھتا طالب علم

سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے بورڈ

پنجاب کی طرح باقی صوبوں میں ہر بورڈ اپنا نتیجہ خود جاری کرتا ہے اور میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ بھی تقریباً یہی ہے: سائٹ، رول نمبر، Submit۔ اپنا بورڈ وہی ہے جو رول نمبر سلپ پر لکھا ہے۔

  • سندھ: کراچی کا میٹرک بورڈ Board of Secondary Education Karachi (BSEK) ہے، اس کی ویب سائٹ bsek.edu.pk ہے۔ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد کے بورڈ اپنی الگ سائٹس پر نتیجہ ڈالتے ہیں۔ کراچی بورڈ کا کوئی مستند SMS کوڈ ہمیں سرکاری ذریعے سے نہیں ملا، اس لیے ویب سائٹ یا اسکول پر انحصار کریں۔
  • خیبرپختونخوا: پشاور بورڈ کی سائٹ bisep.edu.pk پر Results کا الگ سیکشن ہے۔ مردان، ایبٹ آباد، سوات، کوہاٹ، بنوں، ملاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے بورڈ بھی اپنی ویب سائٹ پر رول نمبر سے نتیجہ دیتے ہیں۔
  • بلوچستان: کوئٹہ بورڈ (BBISE) اپنی سائٹ bbiseqta.edu.pk پر نتیجہ اور گزٹ جاری کرتا ہے۔
  • آزاد کشمیر: میرپور بورڈ (AJK BISE) کی سائٹ ajkbise.net ہے۔

کسی بورڈ کی سائٹ معلوم نہ ہو تو گوگل پر بورڈ کا انگریزی نام لکھ کر صرف وہ لنک کھولیں جس کے آخر میں edu.pk یا gov.pk ہو۔

لائبریری میں اسمارٹ فونز پر مختلف صوبوں کے بورڈز کا نتیجہ دیکھتے طلبہ

رول نمبر گم ہو گیا تو گزٹ کیسے کام آئے گا؟

رزلٹ گزٹ ایک بڑی PDF فائل ہوتی ہے جس میں بورڈ کے تمام امیدواروں کے نتائج اسکول یا امتحانی مرکز کے حساب سے درج ہوتے ہیں۔ بیشتر بورڈ اسے نتیجے والے دن یا چند دن بعد اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیتے ہیں۔

  • کمپیوٹر پر: گزٹ کھول کر Ctrl+F دبائیں اور رول نمبر، نام یا اسکول کا نام لکھیں۔
  • موبائل پر: PDF ریڈر (مثلاً Google Drive یا Adobe) میں Search کا آئیکن دبا کر یہی کام کریں۔
  • اسکولوں کے لیے: پوری کلاس کا نتیجہ ایک ساتھ دیکھنے کا یہ سب سے آسان ذریعہ ہے۔

گزٹ نہ ملے تو ریگولر طالب علم اپنے اسکول کے دفتر سے، اور پرائیویٹ امیدوار بورڈ کے ہیلپ ڈیسک سے رابطہ کریں۔ اپنا شناختی کارڈ یا ب فارم نمبر ساتھ رکھیں۔

کتابوں کے درمیان لیپ ٹاپ پر نتائج کا گزٹ تلاش کرتا نوجوان

رزلٹ کارڈ میں یہ 6 چیزیں فوراً جانچیں

نتیجہ دیکھنے کے بعد صرف کل نمبر نہ دیکھیں، یہ سب ملائیں:

  1. نام اور والد کا نام: ہجے رجسٹریشن کے مطابق ہوں۔ غلطی ہو تو سند میں غلطی درست کرانے کا طریقہ دیکھیں۔
  2. تاریخ پیدائش: آگے شناختی کارڈ اور ملازمت میں یہی چلے گی۔
  3. مضامین کی فہرست: کوئی مضمون غائب یا غلط تو نہیں۔
  4. ہر مضمون کے نمبر: کم از کم 33 فیصد ضروری ہیں۔ پنجاب اور فیڈرل بورڈ سے متعلق خبروں کے مطابق 40 فیصد کی نئی شرط مرحلہ وار آ رہی ہے، اپنے بورڈ کا نوٹیفکیشن ضرور پڑھیں۔
  5. گریڈ اور فیصد: نئے گریڈنگ نظام کو سمجھنے کے لیے میٹرک گریڈنگ سسٹم کیا ہے پڑھیں۔
  6. حیثیت (Status): Pass، Fail یا کسی مضمون میں Compartment۔

نمبر توقع سے بہت کم ہوں تو گھبرائیں نہیں۔ بورڈ نتیجے کے بعد محدود دنوں کے لیے دوبارہ گنتی کی درخواست لیتا ہے، تفصیل پیپر ری چیکنگ کرانے کا طریقہ میں ہے۔ یاد رکھیں، ری چیکنگ میں پرچہ دوبارہ نہیں جانچا جاتا، صرف نمبروں کی گنتی اور رہ جانے والے سوال دیکھے جاتے ہیں۔

امتحانی ہال میں نگران کی موجودگی میں پرچہ حل کرتے طلبہ

جعلی رزلٹ ویب سائٹس اور فراڈ کالوں سے بچیں

رزلٹ کے دنوں میں سینکڑوں غیر سرکاری سائٹس "رزلٹ دیکھیں" کے نام سے اشتہار چلاتی ہیں۔ ان میں سے کئی پرانے یا اندازے والے نتائج دکھاتی ہیں، اور کچھ ذاتی معلومات جمع کرتی ہیں۔

  • صرف وہی نتیجہ مانیں جو بورڈ کی سرکاری سائٹ، بورڈ کے SMS کوڈ یا سرکاری گزٹ میں ہو۔
  • کوئی سائٹ رزلٹ دکھانے کے لیے شناختی کارڈ نمبر، بینک تفصیل یا پیسے مانگے تو فوراً بند کر دیں۔ بورڈ نتیجہ مفت دکھاتا ہے۔
  • "پیسے دو، نمبر بڑھوا دیں گے" والی کالیں اور واٹس ایپ میسج سراسر دھوکا ہیں۔ ایسی کال کی شکایت متعلقہ بورڈ اور ایف آئی اے سائبر کرائم کو کریں۔
  • "رزلٹ کی تاریخ" والی خبر بھی صرف بورڈ کی پریس ریلیز سے ہی سچ مانیں۔
موبائل فون پر نامعلوم میسج کو مشکوک نظروں سے دیکھتا نوجوان

سرکاری سائٹ پہلے، SMS بیک اپ، گزٹ آخری سہارا

خلاصہ یہ ہے کہ میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ تینوں صورتوں میں رول نمبر سے شروع ہوتا ہے، اس لیے نتیجے سے پہلے رول نمبر سلپ سنبھال کر رکھیں۔ نتیجہ آتے ہی پہلے بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ آزمائیں، رش ہو تو SMS کوڈ استعمال کریں، اور رول نمبر نہ ہو تو گزٹ میں تلاش کریں۔ نتیجہ مل جائے تو اس کا پرنٹ یا PDF محفوظ کریں، کیونکہ اصل رزلٹ کارڈ آنے میں وقت لگتا ہے اور فرسٹ ایئر میں داخلہ کے فارم فوراً کھل جاتے ہیں۔

دوستوں کے ساتھ ایک موبائل پر نتیجہ دیکھ کر خوش ہوتے طلبہ

اکثر پوچھے گئے سوالات

میٹرک کا رزلٹ SMS سے کیسے چیک کریں؟

نئے میسج میں صرف اپنا رول نمبر لکھیں (نام یا کوئی اور لفظ نہیں) اور اپنے بورڈ کے کوڈ پر بھیج دیں، مثلاً لاہور بورڈ 800291۔ فیڈرل بورڈ میں FB لکھ کر اسپیس دیں، پھر رول نمبر لکھ کر 5050 پر بھیجیں۔ عام SMS سے کچھ زیادہ چارجز کٹ سکتے ہیں۔

رول نمبر بھول جائیں تو میٹرک کا نتیجہ کیسے دیکھیں؟

ریگولر طالب علم اپنے اسکول سے رول نمبر لیں، پرائیویٹ امیدوار بورڈ کی ویب سائٹ سے رول نمبر سلپ دوبارہ نکالیں۔ کچھ بورڈ نام سے تلاش کی سہولت دیتے ہیں اور رزلٹ گزٹ (PDF) میں نام یا اسکول کے حساب سے بھی نتیجہ ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

کیا میٹرک کا رزلٹ نام سے چیک ہو سکتا ہے؟

یہ بورڈ پر منحصر ہے۔ کئی بورڈز کی ویب سائٹ پر نتیجہ صرف رول نمبر سے ملتا ہے، جبکہ کچھ بورڈ نام اور والد کے نام سے تلاش کی سہولت دیتے ہیں۔ گزٹ کی PDF میں سرچ کر کے نام سے بھی نتیجہ ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

میٹرک میں پاس ہونے کے لیے کتنے نمبر چاہئیں؟

اب تک ہر مضمون میں کم از کم 33 فیصد نمبر لازمی ہیں۔ پنجاب اور فیڈرل بورڈ کے حوالے سے خبروں کے مطابق 40 فیصد کی نئی شرط مرحلہ وار نافذ ہو رہی ہے، اس لیے اپنے بورڈ کا تازہ نوٹیفکیشن ضرور دیکھیں۔

آن لائن رزلٹ کارڈ کیا داخلے کے لیے کافی ہے؟

آن لائن رزلٹ فوری معلومات کے لیے ہے۔ کالج داخلے کے وقت عموماً اس کا پرنٹ چل جاتا ہے، مگر بعد میں اسکول یا بورڈ سے جاری ہونے والا اصل رزلٹ کارڈ اور سند ہی سرکاری دستاویز مانی جاتی ہے۔

بورڈ کی ویب سائٹ نہ کھلے تو کیا کریں؟

رزلٹ والے دن رش کی وجہ سے سائٹ سست ہو جاتی ہے۔ چند منٹ بعد دوبارہ کوشش کریں، اس دوران SMS کوڈ استعمال کریں یا شام کو جاری ہونے والا گزٹ دیکھیں۔ کسی غیر سرکاری سائٹ پر اپنا شناختی یا ذاتی ڈیٹا نہ ڈالیں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں