پیپر ری چیکنگ کرانے کا طریقہ — بورڈ کا آن لائن فارم، فیس اور اصل فائدہ

تعلیمی دستاویزات و داخلے
طالب علم پنسل سے امتحانی پرچہ حل کرتے ہوئے — بورڈ پیپر ری چیکنگ

پیپر ری چیکنگ کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ رزلٹ آنے کے تقریباً 15 دن کے اندر اپنے بورڈ کے آن لائن پورٹل پر رول نمبر ڈال کر مضمون منتخب کریں، فی پرچہ فیس کا چالان بینک یا آن لائن جمع کرائیں، پھر SMS پر ملی تاریخ پر بورڈ آفس جا کر اپنے سامنے پرچے کی جانچ کروائیں۔

یہ بات شروع میں سمجھ لیں: بورڈ کی ری چیکنگ میں آپ کا پرچہ نئے سرے سے مارک نہیں ہوتا۔ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ ممتحن سے کوئی سوال رہ تو نہیں گیا اور نمبروں کا جوڑ درست ہے یا نہیں۔ اس لیے فیس بھرنے سے پہلے یہ اندازہ لگانا ضروری ہے کہ آپ کے کیس میں ری چیکنگ واقعی فائدہ دے سکتی ہے یا نہیں۔

کلاس روم میں بیٹھ کر امتحان دیتے ہوئے طلبہ کا گروپ

ری چیکنگ میں بورڈ اصل میں کیا دیکھتا ہے؟

پنجاب کے بورڈز، FBISE اور دیگر صوبائی بورڈز کے قواعد تقریباً ایک جیسے ہیں۔ ری چیکنگ کے دوران متعلقہ افسر آپ کی جوابی کاپی کھول کر یہ چار چیزیں دیکھتا ہے:

  1. رہ جانے والے سوال یا صفحے: کوئی جواب یا اضافی شیٹ بغیر نمبر کے تو نہیں رہ گئی۔ اگر ایسا ہو تو وہ حصہ چیک کروایا جاتا ہے۔
  2. اندر کے نمبروں کا جوڑ: ہر سوال کے نمبر جمع کر کے دیکھا جاتا ہے کہ ٹائٹل پیج پر لکھا ٹوٹل درست ہے۔
  3. نمبروں کی منتقلی: ٹائٹل پیج سے ایوارڈ لسٹ اور پھر کمپیوٹر رزلٹ تک نمبر صحیح منتقل ہوئے یا نہیں۔
  4. ممتحن کے دستخط: ہر چیک شدہ صفحے پر ممتحن کا نشان یا دستخط موجود ہے یا نہیں۔

جو چیز نہیں دیکھی جاتی وہ یہ ہے کہ ممتحن نے کسی جواب کو 5 میں سے 3 کیوں دیے۔ یعنی "میرا جواب بالکل ٹھیک تھا، پورے نمبر ملنے چاہیے تھے" والی شکایت ری چیکنگ میں عام طور پر قبول نہیں ہوتی۔

کن حالات میں ری چیکنگ فائدہ دیتی ہے اور کب نہیں

کتابوں کے ڈھیر کے ساتھ سر پکڑے بیٹھا پریشان نوجوان طالب علم

ہر سال ہزاروں طلبہ درخواست دیتے ہیں لیکن نمبر بدلنے والے کیسز کم ہوتے ہیں۔ فیس ضائع ہونے سے بچنے کے لیے یہ موازنہ دیکھ لیں:

آپ کی صورتحالری چیکنگ کا امکان
کسی مضمون میں صفر یا حیرت انگیز طور پر بہت کم نمبر، جبکہ باقی پرچے اچھے ہوںاچھا — ہو سکتا ہے کوئی صفحہ یا حصہ رہ گیا ہو
آپ نے اضافی شیٹ لگائی تھی اور نمبر اس کے حساب سے کم لگ رہے ہیںاچھا — اضافی شیٹ کا چیک نہ ہونا عام غلطی ہے
پریکٹیکل یا تھیوری کے نمبر الٹ لگ گئےاچھا — منتقلی کی غلطی پکڑی جا سکتی ہے
پاس ہونے کے لیے صرف 1-2 نمبر چاہئیںدرمیانہ — جوڑ کی معمولی غلطی بھی فرق ڈال سکتی ہے
نمبر توقع سے 5-10 کم ہیں مگر سب سوال حل کیے تھےکم — مارکنگ کا معیار نہیں بدلا جاتا

اگر آپ ایک یا دو مضامین میں فیل ہیں تو ری چیکنگ کے ساتھ ساتھ سپلیمنٹری امتحان کا داخلہ بھیجنے کا طریقہ بھی دیکھ لیں، کیونکہ دونوں کی تاریخیں قریب قریب ہوتی ہیں اور ری چیکنگ کے انتظار میں سپلیمنٹری کی آخری تاریخ نکل سکتی ہے۔

پیپر ری چیکنگ کرانے کا طریقہ: آن لائن فارم کے 6 مراحل

لیپ ٹاپ پر آن لائن فارم بھرتا ہوا نوجوان — پیپر ری چیکنگ کرانے کا طریقہ

زیادہ تر بورڈز اب آن لائن درخواست لیتے ہیں۔ یہاں BISE Lahore کے پورٹل کی مثال دی گئی ہے۔ باقی پنجاب بورڈز (گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان وغیرہ) کا طریقہ بھی ملتا جلتا ہے:

  1. اپنا رزلٹ کارڈ سامنے رکھیں اور دیکھ لیں کہ کن مضامین کی ری چیکنگ کروانی ہے۔ رزلٹ دوبارہ دیکھنا ہو تو میٹرک کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ یا انٹر کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ پڑھیں۔
  2. بورڈ کا ری چیکنگ پورٹل کھولیں۔ لاہور بورڈ کے لیے یہ rechecking.biselahore.com ہے۔
  3. رول نمبر لکھ کر اپنی معلومات حاصل کریں۔ نام، والد کا نام اور مضامین خود بخود آ جاتے ہیں، انہیں چیک کر لیں۔
  4. ایسا موبائل نمبر لکھیں جو آپ کے پاس رہتا ہو، کیونکہ ملاقات کی تاریخ اور وقت اسی پر SMS ہوتا ہے۔ ساتھ مکمل پتہ بھی درج کریں۔
  5. جن مضامین کی جانچ چاہیے ان پر نشان لگائیں۔ کل فیس خود بخود جمع ہو کر نظر آئے گی۔ فارم محفوظ کر کے چالان ڈاؤن لوڈ کریں۔
  6. چالان مقررہ بینک یا منظور شدہ آن لائن طریقے سے آخری تاریخ سے پہلے جمع کرائیں اور رسید سنبھال کر رکھیں۔

FBISE کے طلبہ اپنے FBISE پورٹل پر ری چیکنگ کا چالان اور فارم حاصل کرتے ہیں۔ کراچی، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بورڈز کے لیے اپنے بورڈ کی ویب سائٹ کا "Rechecking" یا "Scrutiny" والا سیکشن دیکھیں، کیونکہ کچھ بورڈز اب بھی دستی فارم لیتے ہیں۔

ایک فارم میں کتنے مضامین؟

عموماً ایک ہی فارم میں کئی مضامین منتخب کیے جا سکتے ہیں اور فیس ہر مضمون کی الگ لگتی ہے۔ صرف وہی پرچے منتخب کریں جن میں اوپر والے ٹیبل کے مطابق امکان ہو۔

فیس اور آخری تاریخ: بورڈ وار اندازہ

کاؤنٹر پر بینک کارڈ سے ادائیگی مکمل کرتے ہاتھ

فیس اور مہلت ہر سال کے نوٹیفکیشن میں بدل سکتی ہے۔ نیچے دی گئی رقوم حالیہ خبروں اور فارمز سے لی گئی ہیں، حتمی نہیں:

بورڈفیس (فی پرچہ، تقریباً)درخواست کی مہلت
BISE Lahore (میٹرک)1,200 روپےرزلٹ کے تقریباً 15 دن
BISE Lahore (انٹر 2026)1,300 روپےخبروں کے مطابق 24 ستمبر تا 8 اکتوبر 2026
FBISE اسلام آبادفارم میں 1,000 روپے فی جوابی کاپی درج (تازہ رقم پورٹل پر دیکھیں)رزلٹ کے 20 دن
دیگر صوبائی بورڈزہر بورڈ کا اپنا نوٹیفکیشنعموماً 15 سے 30 دن

لاہور بورڈ کے حالیہ اعلانات کے مطابق اگر چیکنگ میں بورڈ کی غلطی نکلے تو اس پرچے کی فیس واپس ہو جاتی ہے۔ FBISE کے فارم میں فیس ناقابلِ واپسی لکھی ہے۔ رقم بھرنے سے پہلے اپنے بورڈ کا تازہ اعلان پڑھ لیں۔

بورڈ آفس میں جانچ کے دن کیا ہوتا ہے

دفتر کی میز پر ترتیب سے رکھے کاغذات اور فائلیں

لاہور بورڈ میں فیس کی تصدیق کے بعد SMS پر تاریخ، وقت اور کھڑکی نمبر آتا ہے۔ اس دن یہ چیزیں ساتھ لے جائیں:

  • رزلٹ کارڈ یا انٹرنیٹ رزلٹ کا پرنٹ
  • رول نمبر سلپ
  • جمع شدہ چالان کی رسید
  • اپنا ب فارم یا شناختی کارڈ (والد یا والدہ ساتھ ہوں تو ان کا شناختی کارڈ بھی)

افسر آپ کے سامنے جوابی کاپی کھولتا ہے۔ آپ کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ ہر سوال کے نمبر لگے ہیں یا نہیں۔ اس وقت جذباتی بحث کے بجائے صرف یہ پوچھیں: "یہ صفحہ یا یہ حصہ چیک ہوا ہے یا نہیں؟" اگر کوئی حصہ رہ گیا ہو تو اسے لکھوا لیں۔ یاد رکھیں، اپنی کاپی کی فوٹو کاپی یا تصویر لینے کی اجازت عموماً نہیں ہوتی۔

نتیجے کے بعد کیا کریں؟

  • نمبر بدل گئے: نظرثانی شدہ رزلٹ کارڈ جاری ہوتا ہے۔ داخلے کے لیے کالج یا یونیورسٹی کو بتا دیں کہ ری چیکنگ کا کیس زیرِ عمل ہے۔ اگر نئے کارڈ پر نام یا کوئی اور اندراج غلط آ جائے تو سند میں غلطی درست کرانے کا طریقہ دیکھیں۔
  • نمبر وہی رہے: بورڈ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ نمبر بہتر کرنے کا اگلا راستہ امتحان ہے، جس کی تفصیل نمبر بہتر کرنے کا امتحان دینے کا طریقہ میں ہے۔

درخواست مسترد ہونے کی عام وجوہات

لیپ ٹاپ کے سامنے پریشان طالبہ سر تھامے بیٹھی ہے
  • آخری تاریخ کے بعد فیس جمع ہوئی: چالان کی تاریخ دیکھیں، دیر سے جمع ہونے والا چالان قبول نہیں ہوتا۔ رزلٹ کے پہلے ہفتے میں ہی درخواست دے دیں۔
  • غلط موبائل نمبر: SMS نہ ملنے سے ملاقات چھوٹ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں رسید لے کر فوراً بورڈ کی ہیلپ ڈیسک سے رابطہ کریں۔
  • ادھورا فارم: مضمون منتخب کیے بغیر یا پتہ خالی چھوڑ کر محفوظ کیا گیا فارم خودکار طور پر رد ہو سکتا ہے۔
  • ایجنٹ کے ذریعے درخواست: کچھ لوگ "نمبر بڑھوانے" کے نام پر پیسے لیتے ہیں۔ ری چیکنگ صرف بورڈ کے سرکاری پورٹل اور چالان سے ہوتی ہے۔ کوئی ایجنٹ ممتحن کی مارکنگ نہیں بدلوا سکتا۔

پیپر ری چیکنگ کرانے کا طریقہ تبھی فائدہ دے گا جب غلطی گنتی کی ہو

پیپر ری چیکنگ کرانے کا طریقہ آسان ہے، لیکن فائدہ صرف تبھی ہوتا ہے جب کوئی سوال چیک ہونے سے رہ گیا ہو یا ٹوٹل غلط جمع ہوا ہو۔ اگر آپ کے نمبر اچانک بہت کم آئے ہیں تو رزلٹ کے پہلے ہفتے میں سرکاری پورٹل سے درخواست دیں، صحیح موبائل نمبر لکھیں اور جانچ کے دن خود پرچہ دیکھیں۔ اگر صرف یہ لگتا ہے کہ ممتحن نے سختی کی تو فیس بچا کر اگلے امتحان کی تیاری بہتر فیصلہ ہے۔

میز پر نوٹس بناتے ہوئے اگلے امتحان کی تیاری کرتا طالب علم

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا ری چیکنگ میں پرچہ دوبارہ چیک ہوتا ہے؟

نہیں۔ پاکستانی بورڈز میں ری چیکنگ کا مطلب دوبارہ مارکنگ نہیں۔ اس میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی سوال یا صفحہ چیک ہونے سے رہ تو نہیں گیا، اندر کے نمبر درست جمع ہوئے یا نہیں، اور ٹوٹل رزلٹ شیٹ پر صحیح منتقل ہوا یا نہیں۔ ممتحن نے کسی جواب کو جو نمبر دیے، وہ عام طور پر نہیں بدلے جاتے۔

ری چیکنگ کی فیس کتنی ہے؟

فیس ہر بورڈ اور ہر سال الگ ہوتی ہے اور فی پرچہ لی جاتی ہے۔ 2025-26 کی خبروں کے مطابق لاہور بورڈ نے میٹرک کے لیے تقریباً 1,200 روپے اور انٹر کے لیے تقریباً 1,300 روپے فی مضمون رکھے۔ درخواست سے پہلے اپنے بورڈ کا تازہ نوٹیفکیشن ضرور دیکھیں۔

ری چیکنگ کی درخواست کب تک دی جا سکتی ہے؟

عام طور پر رزلٹ آنے کے بعد صرف 15 سے 20 دن کی مہلت ملتی ہے۔ پنجاب کے بورڈز میں یہ مدت تقریباً 15 دن اور FBISE کے فارم میں 20 دن لکھی ہے۔ آخری تاریخ گزرنے کے بعد درخواست قبول نہیں ہوتی، اس لیے رزلٹ والے ہفتے میں ہی فیصلہ کر لیں۔

کیا ری چیکنگ سے نمبر کم بھی ہو سکتے ہیں؟

ری چیکنگ میں جو بھی گنتی کی غلطی ملے، اسی کے مطابق نمبر درست کیے جاتے ہیں۔ عملی طور پر زیادہ تر کیسز میں نمبر وہی رہتے ہیں یا بڑھتے ہیں، لیکن اپنے بورڈ کے قواعد میں یہ شق ضرور پڑھ لیں کیونکہ نتیجہ کسی بھی صورت میں حتمی مانا جاتا ہے۔

کیا ری چیکنگ کی فیس واپس ملتی ہے؟

لاہور بورڈ کے حالیہ اعلانات کے مطابق اگر چیکنگ میں بورڈ کی غلطی ثابت ہو جائے تو اس پرچے کی فیس واپس کی جاتی ہے۔ اگر کوئی غلطی نہ نکلے تو فیس واپس نہیں ہوتی۔ FBISE کے فارم میں فیس ناقابلِ واپسی لکھی ہے، اس لیے اپنے بورڈ کی پالیسی پہلے دیکھ لیں۔

ری چیکنگ کا نتیجہ کتنے دن میں آتا ہے؟

کوئی ایک مقررہ مدت نہیں۔ لاہور بورڈ میں فیس جمع ہونے کے بعد SMS کے ذریعے بورڈ آفس آنے کی تاریخ اور وقت دیا جاتا ہے جہاں آپ کے سامنے پرچہ دیکھا جاتا ہے۔ نمبر بدلیں تو نظرثانی شدہ رزلٹ کارڈ بعد میں جاری ہوتا ہے، جس میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔

Umar Farooq

مصنف کے بارے میں: Umar Farooq

عمر فاروق اردو گائیدز کے بانی اور مرکزی مصنف ہیں۔ وہ اردو زبان میں علم، سائنس، روحانیت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر گہرائی سے مضامین لکھتے ہیں تاکہ اردو قارئین کو اپنی زبان میں معیاری معلومات مل سکیں۔

چینل جوائن کریں